Tuesday, 10 April, 2007, 02:56 GMT 07:56 PST
امریکہ نے ایران کے اس اعلان پر تنقید کی ہے کہ وہ اب یورینیم صنعتی پیمانے پر پیدا کر سکتا ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ ایران عالمی برادری کے تقاضوں کے برخلاف ہٹ دھرمی کر رہا ہے اور اس طرح اپنے ایٹمی پروگرام کی توسیع سے خود کو مزید تنہا کرتا چلا جا رہا ہے۔
ایران مسلسل یہ اصرار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام ہر لحاظ سے پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن مغربی ممالک کو خطرہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کی کونسل کے ترجمان گورڈن جوہنڈرے نے کہا ہے کہ ’ہمیں اس پر انتہائی تشویش ہے کہ ایران نے یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت صنعتی پیمانے تک حاصل کر لی ہے‘
ایک برطانوی اہلکار کا کہنا ہے کہ ’ایران کا اعلان انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اور اقوام متحدہ کی قرادادوں کی ایک اور خلاف ورزی ہے‘۔
یورپی یونین نے بھی اپنی ان اپیلوں کا اعادہ کیا ہے جن میں ایران سے یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے ایران سے کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرے۔
اقوام متحدہ ایران پر پابندیوں کی دو منصوبے منظور کر چکی ہے ان میں ایک صرف اس لیے ہے کہ اس نے یورینیم کی افزودگی روکنے سے انکار کر دیا ہے۔
ایران نے اس سال فروری میں اعلان کیا تھا کہ اس نے نتانز میں 164سیٹری فیوج کے دو کیسکیڈ لگا لیے ہیں اور یہ کہ وہ مارچ کے آخر تک تین ہزار سینٹری فیوج لگانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
![]() | |
| نتانز میں ایران کے جوہری پلانٹ کی بیرونی تصویر |
ایٹمی امور پر ایران کے چیف مذاکرات کار علی لارا جانی نے پیر کو نتانز میں بتایا کہ ایران کے سینٹری فیوج میں گیس داخل کرنا شروع کر دی ہے۔ تاہم انہوں نے بھی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا تھا۔
نتانز سے بی بی سی کے فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ ’بعص دوسرے ایرانی اہلکاروں یہ کہتے ہیں کہ تین ہزار سینٹری فیوج لگا دیے گئے ہیں۔
اور مرکزی ایران میں نتانز کے مقام پر واقع پلانٹ میں زیرِ زمین ایسے کشادہ ہال ہیں جہاں ایسے پچاس ہزار سینٹری فیوج تک لگائے جا سکتے ہیں جو یورینیم گیس کو افزودہ کر سکتے ہیں۔
لارا جانی نہ متنبہ کیا ہے کہ اگر مغرب نے ایران پر اس کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مزید دباؤ ڈالا تو اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہو گا کہ وہ ایٹیمی تخفیف اسلحہ کے معاہدے میں اپنی شمولیت برقرار رکھنے پر نظرِ ثانی کرے۔