Sunday, 08 April, 2007, 13:51 GMT 18:51 PST
افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ اٹلی کے صحافی کے ساتھ اغواء کیے جانے والے افغان صحافی کو قتل کردیا گیا ہے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے چند اہم اراکین کو جیل سے رہا کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا جس کے بعد اجمل نقشبندی کو قتل کردیا گیا۔
اجمل نقشبندی افغانستان آنے والے غیرملکی صحافیوں کے لیے بطور گائیڈ اور ترجمان کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔
اجمل تقشبندی کو اٹلی کے ایک رپوٹر ڈینئل مستروگیاکوموکاور اور ان کے ڈرائیور کے ہمراہ چھ مارچ کو صوبہ ہلمند میں ایک طالبان چیک پوائنٹ سے اغواء کیا گیا تھا۔ ان افراد پر برطانوی فوج کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ بعد ازاں اٹلی کے رپورٹر کو طالبان کے پانچ اراکین کی رہائی کے بدلے میں آزاد کردیا گیا تھا۔
![]() | |
| اٹلی کے رپورٹر کے بدلے طالبان کے پانچ اراکین کو رہا کیا گیا تھا |
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر اشتعال کی سی کیفیت ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایک تو غیر ملکی صحافی کی رہائی کے بدلے پانچ طالبان اراکین کو آزاد کرکے طالبان کا حوصلہ بڑھایا دوسرے انہوں نے غیر ملکی کو تو بچا لیا مگر ایک افغان کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔
اس وقت بھی افغان طبی عملے کے پانچ اراکین اور ایک فرنچ ایڈ ورکر اپنے تین افغان ساتھیوں کے ساتھ طالبان کے قبضے میں ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ قید میں موجود ان افراد کی قسمت کا فیصلہ آئندہ کیا جائے گا۔