Sunday, 08 April, 2007, 04:22 GMT 09:22 PST
شاہ زیب جیلانی
بی بی سی گوانتاناموبے، کیوبا
پچھلے پانچ برس سے یہاں قیدِ تنہائی کاٹنے والوں کو زیادہ اندازہ نہیں کہ روزانہ باہر کی دنیا کیا کچھ ہو جاتاہے۔ یہاں کوئی اخبار نہیں، ریڈیو نہیں، ٹی وی نہیں۔
لائبریری میں قیدیوں کے لیے تیرہ مختلف زبانوں میں کتابیں موجود ہیں۔ سب زیادہ کتابیں عربی زبان میں ہیں۔ اس کے علاوہ مجھے فارسی، پشتو اور انگریزی زبانوں میں بھی بے شمار کتابیں رکھی نظر آئیں۔
تجسساً پوچھا: اردو میں آپ کے پاس کیا ہے؟
لائبریری کا مقصد |
کیا امریکی فوج قیدیوں کے ساتھ جان بوجھ کر کوئی مذاق کر رہی ہے یا پھر یہ کتابیں بِلا سوچے سمجھے یہاں رکھ دی گئیں؟
لائبریرین نے بتایا کہ قیدیوں کی لائبریری میں کتابیں دیکھ بھال کر رکھی جاتی ہیں۔ حکام کی کوشش ہوتی ہے کہ قیدیوں میں ’مثبت رجحانات‘ کو فروغ دینے کے لیے امن، پیار، محبت اور برداشت سے متعلق موضوعات پر کتابیں رکھی جائیں۔
![]() | |
| گوانتانامو کی لائبریری میں موجود اردو کتاب |
لیکن لائبریرین نے واضع کیا کہ قیدیوں کی اکثریت کو رومانوی اور افسانوی کتابوں سے زیادہ دلچسپی نہیں اور وہ تاریخ، جغرافیہ اور سیاست سے متعلق کتابوں کا زیادہ مطالبہ کرتے ہیں۔ یہاں مغربی جمہوریت، مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور افغانستان کے نئے آئین کو پڑھا جاتا ہے لیکن سب سے زیادہ اسلامی کتابیں اور پیغمبرِ اسلام کی سوانح حیات پڑھی جاتی ہیں۔
لائبریرین کے اس جواب پر مجھے کوئی خاص یقین نہیں آیا۔
ذہن یہ یہ بات بھی آئی کہ افغانستان کے میدانِ جنگ سے اٹھائے گئے اور امریکہ کو پاکستانی آئی ایس آئی کی طرف سے پکڑ پکڑ کردیئے جانے والوں میں کافی لوگ تو ان پڑھ تھے، ان کے لیے پانچ ہزار کتابوں پر مشتعمل یہ لائبریری کس کام کی؟
لائبریرین نے کہا کہ جو پڑھ لکھ نہیں سکتے ان کے لیے تصویری کتابوں کا اہتمام ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہم انہیں جانوروں پر تصویری کتابیں دیتے، مشرقِ وسطی پر کتابیں دیتے ہیں جنہیں دیکھ دیکھ کر وہ اپنا دل بہلاتے ہیں‘۔
(شا ہ زیب جیلانی کا گوانتانامو کا یہ دورہ امریکی فوج کی کڑی نگرانی میں کیا۔ گوانتانامو کے حراستی مرکز کے اندر انہوں نے جو کچھ دیکھا اور سنُا اس کا ذکر ان کے سلسلہ وار کالموں ’گوانتانامو ڈائری‘ میں جاری ہے)