http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 07 April, 2007, 20:03 GMT 01:03 PST

پیم او ٹوُل
بی بی سی کی ایرانی امور کی ماہر

سی آئی اے نے تشدد کیا: سفارتکار

فروری کے دوران عراق میں اغوا ہونے والے ایک ایرانی سفارتکار کو رہائی مل گئی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اغوا کرنے والوں اور سی آئی اے کے اہلکاروں نے اس پر تشدد کیاہے۔

عراق میں مغوی ایرانی سفارتکار رہا

جلال شرافی بغداد میں ایرانی سفارتخانے کے سیکریٹری دوم تھے۔ انہوں نے ایرانی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کے دوران بتایا کہ ایجنٹ ان سے عراق میں ایران کے کردار کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کے انہیں اغواء کرنے والوں نے عراقی فوجی وردی پہن رکھی تھی۔

امریکی اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ وہ اغواء یا تشدد میں ملوث نہیں ہیں۔

ایرانی سفارتکار نے ایرانی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ ان پر دن رات تشدد کیا جاتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں بغداد کی ایک سّک سے اس وقت اغواء کیا گیا جب وہ خریداری کر رہے تھے اور انہیں جس نے اغواء کیا اس کے پاس عراقی وزارتِ دفاع کا شناختی کارڈ تھا۔

نائب سیکریٹری نے بتایا کہ انہیں بغداد کے کرادا ڈسٹرکٹ سے اغوا کیا گیا اور بغداد کے شہری ہوائی اڈے کے قریب واقع فوجی اڈے پر رکھا گیا اور ان سے عربی اور انگریزی میں پوچھ گچھ کی گئی۔

ان کے مطابق سی آئی اے ایجنٹوں کے سوالات زیادہ تر عراق میں ایرانی موجودگی اور عراقیوں پر ایران کے اثر و نفوذ کے بارے میں تھے۔