Friday, 06 April, 2007, 03:09 GMT 08:09 PST
غزہ میں بی بی سی کے لاپتہ صحافی ایلن جانسٹن کی بازیابی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں ایک برطانوی سفارت کار نے حماس کے رہنما وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ سے ملاقات کی ہے۔
برطانیہ کے کسی سفارت کار کی حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ برطانیہ حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اور اس سے کسی قسم کا رابطہ کرنے سے اجتناب کرتا رہا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن بارہ مارچ سے غزہ سے لاپتہ ہیں اور عام خیال یہی ہے کہ انہیں اغواء کیا گیا ہے۔
یروشلم میں برطانوی قونصل جنرل رچرڈ میکپیس نے کہا ہے کہ غزہ میں اسماعیل ہنیہ سے یہ ملاقات صرف اور صرف یہ انسانی مسئلہ حل کرنے کے لیے کی گئی تھی۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی غزہ میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ سے اس سلسلے میں ملاقات کی تھی جہاں انہیں فلسطین کے صحافیوں کے ایک احتجاجی مظاہرے کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔
![]() | |
| یہ حماس اور برطانیہ میں پہلا براہراست رابطہ تھا |
اسماعیل ہنیہ سے ملاقات کے بعد برطانوی قونصل جنرل نے واضح کیا کہ اس ملاقات کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ حماس کی طرف برطانوی پالیسی میں کوئی تبدیلی آ رہی ہے۔
ایلن جانسٹن غزہ میں واحد بین الاقوامی نامہ نگار تھے اور اس سے پہلے کسی صحافی کو اتنے عرصے تک مغوی نہیں رکھا گیا۔
برطانیہ اور یورپی یونین حماس کی قیادت میں قائم قومی یکجہتی حکومت کے کسی رکن سے ملاقات سے گریز کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہےکہ جب تک حماس تشدد کا راستہ ترک نہیں کرتی اس کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔
بی بی سی کو ایلن جانسٹن کی حمایت میں ہزاروں کی تعداد میں پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔