Tuesday, 03 April, 2007, 11:59 GMT 16:59 PST
برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ ایران کے قبضے میں موجود رائل نیوی کے پندرہ فوجیوں کی رہائی کے حوالے سے ہونے والے اگلے دو دن کے مذاکرات انتہائی اہم ہوں گے۔
بلیئر کا کہنا تھا کہ انہوں نے مسٹر لاریجانی کی تقریر سنی ہے جو بظاہر حوصلہ افزا دکھائی دیتی ہے تاہم اہم چیز یہی ہے کہ کس طرح سے قید میں موجود افراد کو واپس لایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کے آغاز پر برطانیہ کے سامنے دو پہلو تھے، ایک یہ ایران یہ بات سمجھ لے کہ اس مسئلہ پر’دباؤ موجود ہے‘ اور دوسرا یہ کہ سفارت کاری کا ’دروازہ کھلا ہے‘۔
![]() |
ایران کی سپریم سکیورٹی کونسل کے ایک رکن علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایران کی ترجیح یہ ہے کہ برطانوی فوجیوں پر مقدمہ نہ چلایا جائے بلکہ سفارتی ذرائع سے مسئلے کو حل کیا جائے۔
انہوں نے منگل کو یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ اس مسئلہ پر برطانوی حکام سے بات چیت کا نیا دور منگل کو شروع ہو گیا ہے۔ علی لاریجانی، جو اقوامِ متحدہ میں ایران کے جوہری مذاکرات اعلیٰ بھی ہیں، نے ایرانی ریڈیو کو بتایا تھا کہ برطانوی حکومت نے ایران کے وزیر خارجہ کے ساتھ سفارتی سطح پر بات چیت کا آغاز کردیا ہے۔ تاہم ابھی وہ ابتدائی مرحلے پر ہیں۔ اگر بات چیت کا سلسلہ اسی طرح سے جاری رہا تو اس مسئلے کی کوئی صورت نکل سکتی ہے اور ممکن ہے کہ وہ حل ہو جائے۔
ایران کا موقف تھا کہ برطانوی فوجیوں نے 23 مارچ کو اس کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی تھی جبکہ برطانیہ کا اصرار تھا کہ اس کے فوجی عراق کی سمندری حدود میں تھے۔
![]() | |
| پیر کو بھی ایران کے ٹیلی وژن پر برطانوی بحریہ کے فوجیوں کو دکھایا گیا |
دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران اور برطانیہ کے موقف میں کچھ کچھ اختلاف ہے لیکن ہم ڈاکٹر لاریجانی کے اس خیال سے متفق ہیں کہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے دوطرفہ مذاکرات ہوں تاکہ مسئلے کا سفارتی حل نکالا جا سکے۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ منگل کو اس حوالے سے مذاکرات جاری رکھے گا۔
برطانوی دفترِ خارجہ کے اس بیان سے قبل ایک مترجم کی وساطت سے چینل فور کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر لاریجانی نے اصرار کیا کہ ایران کو اس مسئلے پر اپنے موقف کے درست ہونے کا یقین ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور اس کے حلیف ممالک کی جانب سے ’طاقت کی زبان‘ کا استعمال دشواریاں پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران چاہے گا کہ اس بات کی ضمانت دی جائے کہ آئندہ اس کی بحری حدود کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔