Sunday, 01 April, 2007, 11:13 GMT 16:13 PST
افغانستان میں مشتبہ طالبان جنگجوؤں نے تین افغانیوں کو غیر ملکی افواج کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں سرِعام پھانسی دے دی ہے۔
ان تینوں افراد کو صوبہ ہلمند میں موسیٰ قلعہ کے علاقے میں پھانسی دی گئی جہاں فروری میں مزاحمت کاروں نے قبضہ کر لیا تھا۔
طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تینوں افراد نے غیرملکی افواج کے لیے جاسوسی کی تھی اور انہیں طالبان کے ایک اہم کمانڈر کی نقل وحرکت کے بارے میں آگاہ کیا تھا جس کے بعد غیر ملکی افواج نے اس کمانڈر کو ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان تینوں افراد کی لاشیں علاقے میں لٹکی ہوئی ہیں۔
![]() |
اس حملے میں کم از کم تین اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ پولیس کے پہلے قافلے پر اس وقت گھات لگا کر حملہ کیا گیا جب وہ سپن بولدک اور شوراوک کے سرحدی علاقے میں معمول کے گشت پر تھے۔
اس حملے میں فریقین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا تاہم ہلاک اور زخمیوں کی زیادہ تعداد پہلے قافلے کی مدد کو پہنچنے والے پولیس کے دوسرے دستے میں شامل اہلکاروں کی ہے۔
علاوہ ازیں گزشتہ ماہ کابل میں امریکی سفارت خانے کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں خودکش بمبار ہلاک جبکہ کئی دیگر افراد زخمی ہو گئے تھے۔ یاد رہے کہ طالبان کی جانب سے یہ دھمکی دی گئی تھی کہ وہ افغانستان میں موجود غیرملکیوں پر حملے تیز کردیں گے۔