http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 01 April, 2007, 14:18 GMT 19:18 PST

’خودکش حملے میں تین بچے ہلاک‘

پولیس کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مشرقی حصے میں ایک فوجی قافلے پر ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم تین بچے ہلاک جبکہ چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

اس حملے میں کئی فوجی اور شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بچے فوجی قافلے کے قریب تھے کہ جب حملہ آور نے اپنی کار کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ حملہ کابل کے مشرق میں لغمان صوبے کے قریب ہوا ہے۔ نیٹو نے اس حملے کی تصدیق کی ہے۔

پھانسی
افغانستان میں مشتبہ طالبان جنگجوؤں نے تین افغانیوں کو غیر ملکی افواج کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں سرِعام پھانسی دے دی تھی۔ ان تینوں افراد کو صوبہ ہلمند میں موسیٰ قلعہ کے علاقے میں پھانسی دی گئی جہاں فروری میں مزاحمت کاروں نے قبضہ کر لیا تھا۔

طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ تینوں افراد نے غیرملکی افواج کے لیے جاسوسی کی تھی اور انہیں طالبان کے ایک اہم کمانڈر کی نقل وحرکت کے بارے میں آگاہ کیا تھا جس کے بعد غیر ملکی افواج نے اس کمانڈر کو ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ ان تینوں افراد کی لاشیں علاقے میں لٹکی ہوئی ہیں۔

 طالبان کی جانب سے یہ دھمکی دی گئی تھی کہ وہ افغانستان میں موجود غیرملکیوں پر حملے تیز کردیں گے
 

پولیس اہلکار ہلاک
اس سے قبل مشتبہ طالبان کے ایک گروہ نے پاکستان کی سرحد کے قریب پولیس کے دو قافلوں پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا جس میں سات پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے میں کم از کم تین اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ پولیس کے پہلے قافلے پر اس وقت گھات لگا کر حملہ کیا گیا جب وہ سپن بولدک اور شوراوک کے سرحدی علاقے میں معمول کے گشت پر تھے۔

اس حملے میں فریقین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا تاہم ہلاک اور زخمیوں کی زیادہ تعداد پہلے قافلے کی مدد کو پہنچنے والے پولیس کے دوسرے دستے میں شامل اہلکاروں کی ہے۔

یاد رہے کہ طالبان کی جانب سے یہ دھمکی دی گئی تھی کہ وہ افغانستان میں موجود غیرملکیوں پر حملے تیز کردیں گے۔