Saturday, 31 March, 2007, 03:52 GMT 08:52 PST
اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے اپنے فلسطینی ہم منصب اسماعیل ہانیہ کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔
امریکی جریدے ٹائم میگزین کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان اگلے پانچ برس میں امن کے قیام کا حقیقی امکان موجود ہے۔
انٹرویو کے دوران ایہود اولمرت نے کہا کہ اسماعیل ہانیہ جو حماس کے رکن ہیں، انہوں نے اسرائیل پر حملوں میں استعمال کے لیے فلسطینی علاقوں کے باہر سے لاکھوں ڈالر شدت پسندوں کو منتقل کیے ہیں۔ مگر انہوں نے اس حوالے سے زیادہ تفصیل نہیں بتائی۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اسرائیل، فلسطینی پناہ گزینوں کے اپنے گھروں کو واپس جانے کی تجویز ہرگز قبول نہیں کرے گا جو کہ عرب امن منصوبے کا خاص جزو ہے۔
اس منصوبے میں کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیل ان علاقوں سے جن پر اس نے انیس سو سڑسٹھ میں قبضہ کر لیا تھا، نکل جائے اور وہاں ایک فلسطینی مملکت قائم ہو جائے اور فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کا کوئی منصفانہ حل عمل میں آ جائے تو عرب ممالک اسرائیل کو مکمل طور پر تسلیم کر لیں گے۔
ایہود اولمرت کا کہنا تھا کہ یہ عرب منصوبہ اسرائیل کے ساتھ امن کے لیے ایک انقلابی تبدیلی ہے۔