Friday, 30 March, 2007, 07:59 GMT 12:59 PST
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے قبل خلیجِ فارس سے گرفتار کیے جانے والے برطانوی بحریہ کے پندرہ میں سے ایک فوجی نے ایران کی سمندری حدود میں داخلے کا ’اعتراف‘ کیا ہے اور اس پر ایرانی قوم سے معافی مانگی ہے۔
خبر رساں ادارے ارنا یا آئی آر این اے کا کہنا ہے کہ ’اعتراف‘ کرنے والے فوجی کا نام ناتھن تھامس سمرز ہے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی نے ایک ویڈیو نشر کی ہے جس میں اس کے مطابق مذکورہ فوجی نے ’بحری حدود کی خلاف ورزی کا اعتراف‘ کیا ہے۔ اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹیلیویژن نےگرفتار شدہ خاتون ملاح فے ٹرنے کا انٹرویو اور دیگر چودہ فوجیوں اور ملاحوں کی ویڈیو فوٹیج بھی نشر کی تھی۔
چھبیس سالہ ٹرنے نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں خلیج فارس سے پکڑا گیا اور انہوں نے’یقینی طور پر ایرانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی‘۔
اس سے پہلے ایران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے برطانوی بحریہ کے پندرہ فوجیوں کی رہائی کی اپیل مسترد کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ میں تعینات ایران کے سفیر کا کہنا تھا کہ برطانوی فوجیوں کے معاملے میں اقوام متحدہ سمیت کسی بھی تیسرے فریق کی شمولیت سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا اور یہ معاملہ دونوں فریقین کو ہی حل کرنا چاہیے۔
![]() | |
| ایران نے برطانیہ کوگرفتار اہلکاروں سے ملاقات کی پیشکش کی تھی |
برطانیہ، جرمنی میں جمعہ کو شروع ہونے والی یورپین فارن منسٹرز کے دو روزہ اجلاس میں اس مسئلے کو اٹھانے پر غور کررہا ہے۔ برطانیہ جس نے تہران حکومت کے ساتھ تمام تر سفارتی تعلقات ختم کر دیے ہیں، توقع ہے کہ وہ یورپی وزراء خارجہ کے اس اجلاس میں اس معاملے پر سخت اقدامات کے لیے کہے گا۔
اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ برطانیہ کے’غلط رویے‘ کی وجہ سے خاتون برطانوی ملاح کی رہائی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
ایران کے مرکزی جوہری مذاکرات کار اور ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ ’یہ اعلان کیا گیا تھا کہ گرفتارشدگان میں سے خاتون کو رہا کر دیا جائےگا مگر اس اعلان کے جواب میں غلط رویہ اپنایا گیا‘۔