Friday, 30 March, 2007, 22:39 GMT 03:39 PST
گزشتہ پانچ سال سے امریکی حراست میں رہنے والے سعودی عرب کے ایک شہری نے ایک امریکی فوجی عدالت میں کہا ہے کہ اس نے تشدد کے بعد اعتراف کیا تھا کہ وہ سنہ دو ہزار میں یمن میں امریکی جہاز پر بمباری میں ملوث تھے۔
عبدالرحمٰن النشیری نے جن کی عمر اکتالیس سال ہے کہا کہ انہیں دو ہزار دو میں گرفتار کیا گیا جس کے بعد پانچ برس سے ان پر تشدد ہوتا رہا۔
پینٹاگون سے ملنے والی عدالتی کارروائی پر مبنی ایک تحریر کے مطابق عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ اپنے ’صیادوں‘ کو مطمئن کرنے کے لیے انہوں نے کہانیاں تراشیں۔ تاہم عبدالرحمٰن پر تشدد کی کوئی تفیصل نہیں ہے۔
عبدالرحمٰن کے مطابق انہیں مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
عبدالرحمٰن پر الزام ہے کہ جب یمن میں امریکی بحری جنگی جہاز کو نشانہ بنایا گیا جس میں سترہ امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے، وہ خلیج میں القاعدہ کی کارروائیوں کے رہنما تھے
انہیں دو ہزار چار میں یمن کی ایک عدالت نے غیر حاضری میں سزائے موت سنائی تھی۔
اے ایف پی کے مطابق اس ماہ کی چودہ تاریخ کو عبدالرحمٰن کی شہادت ایک فوجی ٹرائبیونل کے سامنے پیش کی گئی جس میں ان کی قیدی کی حثیت کا تعین کیا جانا تھا۔
اس کے مطابق بالآخر انہوں نے یہ ’اعتراف‘ کیا تھا کہ انہوں نے یمن میں امریکی مفادات پر حملے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم پینٹاگون سے حاصل ہونے والی تحریر کے مطابق عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ انہوں نے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے یہ ’اعتراف‘ کیا تھا۔
عبدالرحمٰن نے یہ ’اعتراف‘ بھی کیا ہے کہ انہوں نے کئی مرتبہ اسامہ بن لادن سے ملاقات کی اور ان سے بھاری رقوم حاصل کیں۔