Friday, 30 March, 2007, 23:50 GMT 04:50 PST
امریکہ نے ایران کے قبضے میں برطانوی بحریہ کے پندرہ فوجیوں کی رہائی کے بدلے عراق سے پکڑے گئے پانچ ایرانیوں کو رہا کرنے کے معاہدے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
محکمۂ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے تبادلے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ امریکہ نے عراق کے شہر اربیل سے پانچ ایرانیوں کو جنوری میں گرفتار کیا تھا اور اس کا کہنا ہے کہ یہ کہ پاسدارانِ انقلاب میں سے تھے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ سفارتی عملے کے رکن تھے۔
اس سے پہلے یورپی اتحاد کے وزرائے خارجہ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ برطانوی بحریہ کے پندرہ فوجیوں کو جنہیں ایک ہفتہ قبل پکڑا گیا تھا، فوری طور پر رہا کیا جائے۔
جرمنی میں ہونے والی ایک اجلاس میں یورپی اتحاد کے ستائیس ممالک نے اس مسئلے پر برطانیہ کی ’غیر مشروط‘ حمایت کا اعلان کیا۔
ادھر ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نے کہا تھا کہ ایک ہفتے قبل خلیجِ فارس سے گرفتار کیے جانے والے برطانوی بحریہ کے پندرہ میں سے ایک فوجی نے ایران کی سمندری حدود میں داخلے کا ’اعتراف‘ کیا ہے اور اس پر ایرانی قوم سے معافی مانگی ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی نے ایک ویڈیو نشر کی جس میں اس کے مطابق مذکورہ فوجی نے ’بحری حدود کی خلاف ورزی کا اعتراف‘ کیا۔ اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹیلیویژن نےگرفتار شدہ خاتون ملاح فے ٹرنے کا انٹرویو اور دیگر چودہ فوجیوں اور ملاحوں کی ویڈیو فوٹیج بھی نشر کی تھی۔
چھبیس سالہ ٹرنے نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں خلیج فارس سے پکڑا گیا اور انہوں نے’یقینی طور پر ایرانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی‘۔
یورپی اتحاد کے وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ برطانوی فوجیوں کو بغیر کسی شرط کے فوری طور پر رہا کیا جائے۔ یورپی اتحاد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو اتحاد مناسب اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
برطانیہ کی خواہش تھی کہ سلامتی کونسل اپنے بیان میں ایران کے خلاف سخت زبان استعمال کرے تاہم روس اور کونسل کے دیگر اراکین نے اس کی مخالفت کی تھی۔