Monday, 26 March, 2007, 13:23 GMT 18:23 PST
مصر میں ان آئینی اصلاحات پر ووٹنگ جاری ہے جن پر حزب اختلاف نے کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں مصر پولیس سٹیٹ بن جائے گا۔
حکومت کا کہنبا ہے کہ ان تبدیلیوں سے جمہوریت کی بنیادیں گہری ہوں گی اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں مدد ملے گی۔
مصر میں سیکولر اور اسلام پسندوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کریں۔
اگر مبینہ آئینی اصلاحات کو حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو انسدادِ دہشت گردی کے ان قوانین کی جگہ نئے قوانین بنائے جائیں گے جو ملک میں 1981 سے نافذ ہیں اور جنہیں ہنگامی طور پر نافذ کیا گیا تھا۔
ان قوانین کے تحت پولیس کو وسیع تر اختیارات حاصل ہیں جن کے تحت وہ کسی کو بھی گرفتار کر سکتی ہے۔
ان ترامیم کے نتیجے میں انتظامیہ کو ایسے تمام ادارے بند کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو جائے گا جن کا مذہبی جماعتوں سے تعلق ہو۔ اس کے علاوہ انتخابی قوانین میں ایسی تبدیلیاں بھی ہو سکتی ہیں جس کے نتیجے میں انتخابات میں عدلیے کا کردار محدود ہو جائے۔