Saturday, 24 March, 2007, 17:28 GMT 22:28 PST
عراق میں پولیس کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے متعدد حملوں میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہو گئےہیں۔
دارالحکومت بغداد کے ضلع دورا میں بیس افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب ایک خود کش حملہ آور نے ایک پولیس تھانے پر حملہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق خود کش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھرا ٹرک پولیس سٹیشن کے باہر اڑا دیا جس سے آدھی عمارت تباہ ہو گئی۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر پولیس اہلکار تھے۔ اس حملے میں چھبیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ اسکندریہ میں ایک شیعہ مسجد پر ہونے والے خود کش حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ شام کی سرحد کے نزدیک ہونے والے خود کش حملوں میں بھی گیارہ افراد ہلاک ہو گئے جبکہ پچیس زخمی ہو گئے۔
اس کے علاوہ پولیس کو فلوجہ میں بارہ لاشیں ملی ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عراقی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ فلوجہ میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے چار عراقی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ بغداد کے جنوب میں واقع شہر ہسوہ میں ایک ٹرک بم دھماکے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔
تشدد کے یہ تازہ واقعات ایک ایسے وقت پر پیش آ رہے ہیں جب امریکی اور عراقی افواج کے فرقہ وارانہ تشدد اور مزاحمت کاروں کی پرتشدد کارروائیوں کو روکنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔
اسی دوران عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی نے متنبہ کیا ہے امریکی افواج کے فوری انخلا سے عراق انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراقی افواج ابھی سکیورٹی کی پوری ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
اس سے پہلے امریکی پارلیمان میں ہونے والے ایک ووٹ میں عراق سے امریکی افواج کے انخلا کے لیے اگلے سال ستمبر تک کی مدت مقرر کر دی گئی تھی۔ تاہم صدر بش نے کہا ہے کہ وہ اس قرارداد کو مسترد کر دیں گے۔