Thursday, 22 March, 2007, 12:16 GMT 17:16 PST
سابق امریکی سفارتکار جان بولٹن نے کہا ہے کہ امریکہ نے جان بوجھ کر اسرائیل اور لبنان میں جنگ فوراً بند نہیں ہونے دی۔
سابق سینئر سفارتکار اور اقوام متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گزشتہ سال حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ میں امریکہ نے جان بوجھ کر جنگ بندی کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈالیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی خواہش تھی کہ اسرائیل حزب اللہ کی شکل میں موجود فوجی خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ فوری جنگ بندی، خود ان کے الفاظ میں ’خطرناک اور گمراہ کن‘ ہوتی۔
جان بولٹن کا کہنا ہے کہ امریکہ نے صرف اسی وقت جنگ بندی کی کوششوں میں شمولیت اختیار کی جب اسے اندازہ ہو گیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں کارآمد ثابت نہیں ہو رہیں۔
اسرائیل سے امریکہ کی مایوسی |
جان بولٹن نے ان خیالات کا اظہار بی بی سی کی ریڈیو ڈاکومنٹری ’سمر وار ان لبنان‘ کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
برطانیہ نے بھی لبنان میں جنگ بند نہ کرانے میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا۔
جان بولٹن نے بدھ کو دیے جانے والے انٹرویو میں مزید کہا ہے کہ 2003 میں عراق میں دراندازی کرنے والی اتحادی افواج بھی اس غلطی کی مرتکب ہوئیں کہ انہوں نے عراقیوں کو اقتدار بروقت منتقل نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں چاہیے تھا کہ جیسے ہی ہم نے تختہ الٹا تھا ویسے ہی اقتدار عراقیوں کے حوالے کر دیتے۔
جان بولٹن اس سے قبل امریکہ کے نائب وزیرخارجہ برائے آرمز کنٹرول اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی بھی رہ چکے ہیں۔