Tuesday, 20 March, 2007, 05:48 GMT 10:48 PST
طالبان کی قید سے رہا ہونے والے اطالوی صحافی ڈینیل ماستروگیاکومو نے کہا ہے کہ ان کو اغوا کرنے والوں نے ان کے سامنے ان کےافغان ڈرائیور کا سر قلم کیا تھا۔
ڈینیل ماستروگیاکومو ’لا رپبلیکلا‘ نامی روزنامے سے وابسطہ ہیں۔ انہیں دو ہفتے قبل ہلمند صوبے سے اغوا کیا گیا تھا۔ وہ طالبان کے اعلیٰ رہنماؤں کے انٹرویو کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ماستروگیاکومو اس وقت ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ ان کے ڈرائیور کی لاش ابھی حوالے نہیں کی گئی۔ ان کے مترجم کو بھی پیر کو رہا کر دیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والے ڈرائیور کے چار بچے تھے۔
ماستروگیاکومو نے بتایا کہ انہیں زنجیروں میں باندھ کر رکھا گیااور اس سارے عرصےمیں انہیں پندرہ بار ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب ان کے ڈرائیور کا سر کاٹا گیا تو انہیں لگا کہ اب ان کی باری ہے۔ ’وہ خوفناک منظر تھا‘۔
اٹلی کے وزیر اعظم نے اطالوی صحافی کی رہائی ’سیدھا سادہ‘ مسئلہ نہیں تھا اور اس کے بارے میں مزید تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی۔
اطالوی حکام نے بتایا کہ رہا ہونے والے صحافی منگل کو کابل پہنچیں گے جہاں سے انہیں اٹلی لے جایا جائے گا۔
ایک طالبان رہنما ملا دادللہ نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے بتایا کہ اطالوی صحافی کوطالبان کے پانچ اعلیٰ رہنماؤں کی افغان حکومت کی قید سے رہائی کے بدلے چھوڑا گیا ہے جن میں ان کے اپنے بھائی بھی شامل ہیں۔