Monday, 19 March, 2007, 08:39 GMT 13:39 PST
عراق میں کی جانی والی ایک تازہ سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراقی عوام میں مستقبل کے حوالے سے ناامیدی میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اپنی زندگیوں سے خاص خوش نہیں ہیں۔
دو سال قبل کیے جانے والے ایک سروے جس میں 71 فیصد لوگوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں، اس مرتبہ چالیس فیصد سے کم افراد نے اسی رائے کا اظہار کیا۔
تاہم سروے میں شامل افراد کی اکثریت کا کہنا تھا کہ روزانہ ہونے والے تشدد کے باوجود وہ یہ نہیں مانتے کہ عراق خانہ جنگی کے دہانے پر ہے۔
دو ہزار سے زائد افراد نے بی بی سی اور اے بی سی نیوز کے اس سروے میں حصہ لیا۔ سروے ڈی تھری سسٹم کے تحت کروایا گیا تھا۔
حالیہ سروے عراقی عوام میں تیزی سے بڑھتی تفریق کے ساتھ ملک میں آباد سنی اور شعیہ آبادی کے انتہائی متضاد خیالات کی تصویر پیش کرتا ہے جس میں سنی زیادہ مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ نااُمیدی کے ساتھ ساتھ علاقائی تفریق بھی بغداد سمیت، جہاں سنیوں کا اثر زیادہ ہے، عراق کے تمام حصوں میں نمایاں ہے۔ تاہم ان تضادات کے باوجود 58 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ عراق ایک متحد ملک کے طور پر قائم رہے۔ تقریبًا تمام ہی افراد کا کہنا تھا کہ وہ عراق کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کے حق میں نہیں ہیں۔
![]() | |
| اکیاون فیصد عراقیوں کا کہنا تھا کہ اتحادی فوج پر کیے جانے والے حملے درست ہیں (فائل فوٹو) |
عراقی عوام کی آراء پر مشتمل اس تازہ عوامی جائزہ کے بالکل برعکس، 2005 میں اسی طرح کے ملتے جلتے ایک سروے میں عراقی عوام نے مستقبل کے بارے میں بڑی امید کا اظہار کیا تھا۔
جب لوگوں سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آیا ان کے مطابق کیا عراق میں تعمیرِ نو کی کوششیں موثر ثابت ہوئیں تو 67 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں ایسا نہیں ہوا۔
اڑتیس فیصد افراد کا کہنا تھا کہ 2003 کی جنگ کی نسبت ملک میں اس وقت صورت حال بہتر ہے جبکہ پچاس فیصد کے مطابق ملک میں حالات انتہائی بدتر ہیں۔
سروے میں حصہ لینے والے افراد کی اکثریت کے مطابق ان کی زندگیوں میں بگاڑ گہرا ہوتا جا رہا ہے اور خاص طور پر 88 فیصد کے نزدیک بجلی اور ایندھن کی سپلائی کا معیار انتہائی ناقص ہے۔
زیادہ تر لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ بازاروں یا پرُ ہجوم مقامات پر نہیں جاتے اور کسی پریشانی سے بچنے کے لیے گھر پر رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
![]() | |
| عراق میں گزشتہ عرصے کے دوران فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا ہے (فائل فوٹو) |
ملک کی سنی عرب آبادی سے پوچھے گئے سوالات اور ان سے حاصل جوابات کے مطابق 95 فیصد کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں صدام حسین کو پھانسی دیے جانے کا عمل قطعی غیر مناسب تھا اور ان کی پھانسی سے عراق کو متحد کرنے کی کوششوں میں کوئی مدد نہیں ملے گی جبکہ 82 فیصد شیعہ آبادی کا ماننا تھا کہ ان کو پھانسی دیے جانے کا عمل بالکل مناسب تھا۔
سنیوں کی ایک بڑی تعداد یعنی 48 فیصد کے مطابق عراق کے عوام کو پانچ سال کے اندر کسی مضبوط سیاسی رہنما کا انتخاب کرلینا چاہیے جبکہ ان کی نسبت 46 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں جمہوریت کے خواہش مند ہیں۔
صرف گیارہ فیصد شعیہ افراد نے کسی مضبوط رہنما جبکہ 52 فیصد نے ملک میں جمہوریت اور 37 فیصد نے ایک اسلامی ریاست کے قیام کی بات کی۔