Friday, 16 March, 2007, 00:57 GMT 05:57 PST
ایران پر یورینیم کی افزودگی نہ روکنے کی صورت میں عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کی قرارداد کا مسودہ امریکہ اور برطانیہ سمیت چھ ممالک کی منظوری کے بعد اب سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل اراکین کو بھیج دیا گیا ہے۔
ان دس ممالک کو اس قرارداد کی تیاری میں شریک نہیں کیا گیا تھا۔
سلامتی کونسل کے موجودہ صدر اور اقوامِ متحدہ میں جنوبی افریقہ کے سفیر دمیسانی کمالو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ایران پر پابندیوں کی قرارداد کے حوالے سے سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل رکن ممالک کا مؤقف بھی سنا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صحیح نہیں کہ چھ ممالک قرارداد کا مسودہ تیار کر لیں اور بقیہ ممالک کوصرف بطور ربر سٹمپ استعمال کیا جائے۔
پابندیوں کی اس قرارداد میں ایران پر نہ صرف اقتصادی پابندیوں بلکہ اسے ہتھیاروں کی فراہمی پر بھی پابندی لگانے کی بات کی گئی ہے۔نئی پابندیوں میں ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک اہم ایرانی حکام اور کمپنیوں کے اثاثوں کے انجماد اور امداد یا قرضوں پر پابندی کی شقیں بھی شامل ہیں۔
ایران کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔
ادھر ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے سکیورٹی کونسل میں اس قرارداد پر ووٹنگ کے لیے منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کی باقاعدہ درخواست کی ہے۔ سلامتی کونسل کے موجودہ صدر دمیسانی کمالو کا کہنا ہے کہ انہیں اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر کی جانب سے ایک خط لکھا گیا ہے جس میں یہ دریافت کیا گیا ہے کہ کیا ایرانی صدر ووٹنگ اجلاس کے موقع پر موجود ہو سکتے ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹی وی پر ایک حکومتی ترجمان نے بتایا ہے کہ ایرانی صدر سلامتی کونسل کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم یاد رہے کہ اس قرارداد کے مسودے کے پیش کیے جانے سے قبل ایرانی صدر نے کہا تھا کہ اس سے ان کے ملک کا عزم متزلزل نہیں ہوگا۔