Wednesday, 14 March, 2007, 02:33 GMT 07:33 PST
سعودی عرب نے اپنے 'مشرقِ وسطیٰ امن منصوبے' میں تبدیلیوں کے لیے اسرائیلی منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔
سعودی عرب نے عرب لیگ کے منظور کردہ اپنے مشرقِ وسطیٰ امن منصوبے میں تبدیلیاں کرنے سے انکار دیا ہے۔ عرب لیگ نے سعودی عرب کے اس امن منصوبے کو 2002 میں منظور کیا تھا۔
اس منصوبے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل ان تمام علاقوں کو خالی کر دے جن پر اس نے 1967 کی جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔
اسرائیل نے مطالبہ کیا تھا کہ کے سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ کے لیے اپنے امن منصوبے میں تبدیلیاں لائے لیکن سعودی عرب نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سعودی عرب نے ثالثی کی پیش کش کی تھی۔
اس منصوبے کو پہلے اسرائیل نے قابلِ توجہ نہیں سمجھا تھا لیکن پھر اسرائیلی حکام نے اس میں دلچسپی لینی شروع کر دی۔
اسرائیل اس منصوبے کے بنیادی نقطے ہی سے اتفاق نہیں کرتا کہ وہ ان علاقوں کو خالی کر دے جن پر اس نے انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں قبضہ کیا تھا۔
اسرائیل نے اس تجویز کی بھی مخالفت کی تھی کہ ان مقبوضۃ علاقوں سے بے دخل ہو جانے والے فلسطینی پناہ گزینوں کو واپس آنے دیا جائے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ علاقے اسرائیل کا حصہ ہیں۔
صرف شرائط اور مطالبات کی باتیں |
ان کا کہنا ہے کہ ’مذاکرات اس طرح نہیں کیے جا سکتے، مذاکرات میں تو آپ کو تجاویز قبول کر کہ پھر ان پر کام کرنا ہوتا ہے‘۔
عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ لیک کا سربراہی اجلاس اسی ماہ ریاض میں ہوگا اور اس اجلاں میں تنظیم اس امن منصوبے کا دو بارہ پیش کرے گی۔