Sunday, 11 March, 2007, 23:17 GMT 04:17 PST
ایرانی صدر محمد احمدی نژاد اپنے ملک کے متنازع ایٹمی پروگرام کے دفاع کے لیے سلامتی کونسل سے خطاب کرنا چاہتے ہیں۔
ایران نے یورنیم کی افزودگی روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے مطالبے کا انحراف کیا ہے اور مغربی اقوام کا خیال ہے کہ ایران کے اس ایٹمی پروگرام کا مقصد ایٹمی اسلحہ تیار کرنا ہے۔
ایرانی صدر 2005 سے اب تک دو بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر چکے ہیں لیکن انہوں نے اب تک سلامتی کونسل سے خطاب نہیں کیا۔
ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے ایران کے ایک حکومتی ترجمان کا یہ بیان نشر کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سلامتی کونسل کے اس اجللاس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں جو ایران کے بارے میں پابندیوں کے فیصلے کرنے کے لیے ہونے والا ہے۔
ترجمان کے مطابق ایرانی صدر اس اجلاس میں اس لیے شرکت کرنا چاہتے ہیں کہ ایٹمی معاملے پر اپنے ملک کا دفاع کر سکیں۔
مغربی دباؤ کا سخت گیر مخالف |
سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان، امریکہ، فرانس، برطانیہ، روس، چین اور جرمنی کے نمائندے ایران پر لگائی جانے والی پابندیوں پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تہران سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ ایرانی صدر کا خطاب مغربی ممالک کے موقف میں کوئی تبدیلی پیدا کر سکے گا۔
ایرانی صدر، ایران کے ایٹمی پروگرام کو مغربی دباؤ کی بنا پر بند کرنے کی مخالفین کرنے والے ایرانیوں میں سب سے سخت گیر تصور کیے جاتے ہیں۔