Saturday, 10 March, 2007, 12:03 GMT 17:03 PST
وینز ویلا کے صدر ہوگو شاویز نے امریکی صدر جارج بش پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں ’استعمار کی علامت‘ قرار دیا ہے۔ ان دنوں دونوں صدور ایک دوسرے کی مخالفت میں لاطینی امریکہ کے دورے پر نکلے ہوئے ہیں۔
ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں ’سامراجیت کے خلاف‘ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شاویز نے کہا کہ جارج بش کی حیثیت ایک ’سیاسی لاش‘ سے زیادہ نہیں۔
جب ہوگو شاویز بیونس آئرس میں چالیس ہزار کے جلسے سے مخاطب تھے تو اس وقت امریکی صدر پڑوسی ملک یوراگوئے کے دارالحکومت پہنچ رہے تھے۔
ہوگو شاویز جب جلسے میں امریکی صدر پر چلا رہے تھے تو وہ جارج بش سے تقریباً پینسٹھ کلومیٹر دور تھے۔ ہوگو شاویز اور جارج بش اپنے دورے میں اس سے زیادہ قریب نہیں آئیں گے۔
اپنے مخصوص سرخ سوٹ میں ملبوس شاویز نے پرجوش ریلی سے کہا ’ شمال سے آیا چھوٹا سامراجی اب اس دریا کی دوسری جانب اتر چکا ہوگا۔ چلیے اسے چیخ کر ایک پیغام دیتے ہیں ۔ گرینگو واپس جاؤ۔‘
برازیل سے روانگی سے قبل امریکی صدر نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد ہمسائیگی کےتعلقات بڑھانا تھا۔ ’میرے دورے کا مقصد اس بات کی جتنی ممکن ہو وضاحت کرنا ہے کہ ہماری قوم ایک فراخدل اور درِد دل رکھنے والی قوم ہے۔‘
روانگی سے پہلے امریکی صدر نے ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے جس کا مقصد قدرتی اجزاء سے بنائی جانے والی ایتھنول کو پٹرول کے بدل کے طور پر فروغ دینا ہے۔
![]() | |
| دونوں صدور عوام کے دل جیتنے میں ایک دوسرے پر بازی لیجانے میں لگے ہوئے ہیں |
ہوگو شاویز کا اصرار ہے کہ یہ محض اتفاق ہے کہ صدر بش اور وہ ایک ہی وقت میں لاطینی امریکہ کے ممالک کے دورے پر ہیں، لیکن بیونس آئرس میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دراصل دونوں صدرور لاطینی امریکہ کے لوگوں کے دل جیتنے میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش میں ہیں۔
نامہ نگار ڈینیئل شُوملر کے مطابق زیادہ تر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے صدر بش کے دورے کا مقصد بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے ہوگو شاویز کے بڑھتے ہوئے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
جارج بش برازیل، یوراگوئے، کولمبیا، گوئٹے مالا اور میکسیکو کے دورے پر نکلے ہوئے ہیں جبکہ ہوگو شاویز یوراگوئے کے بعد بولِویا پہنچیں گے۔
خطے میں ہوگوشاویز کے کئی قریبی اتحادی ہیں، خاص طور بولِویا اور ایکواڈور، جبکہ ارجنٹائن کے صدر جیسے خطے کے دیگر حکمرانوں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ شاویز کے دوست نہ بنیں کیونکہ ہوگو شاویز پورے لاطینی امریکہ، خاص طور پر وہاں کے لاکھوں غریبوں میں، بہت مقبول ہیں۔