Friday, 09 March, 2007, 00:33 GMT 05:33 PST
امریکی فوجی حکام جمعہ سے خالد شیخ محمد سمیت چودہ افراد پر بندے کمرے میں مقدمہ شروع کرنے والے ہیں جنہیں کئی سال تک خفیہ جیلوں میں رکھنے کے بعد گوانتانامو کے قید خانے میں منتقل کیا گیا ہے۔
ان چودہ قیدیوں میں پاکستان سے گرفتار کیئے جانے والے خالد شیخ محمد کے علاوہ انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے حمبلی بھی شامل ہیں۔
خالد شیخ محمد پر الزام ہے کہ انہوں نے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ولڈ ٹریڈ سنٹر پر کیئے جانے والے حملوں میں تین ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
حمبلی پر سنہ دوہزار دو میں بالی میں بم دھماکے کرنے کا الزام ہے۔ ان بم حملوں میں دو سو سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔
بندے کمرے میں کیئے جانے والے ان مقدمات میں یہ تعین کیا جائے گا کہ کیا یہ قیدی دشمن کے فوجی ہیں اور آیا ان پر فوجی عدالت میں مقدمات چلائے جا سکتے ہیں۔
![]() | |
| خالد شیخ محمد پاکستان سے گرفتار ہوئے تھے |
گوانتانامو کے تمام قیدیوں کو ابتدائی عدالتی کارروائی سے گزرنا پڑتا ہے جس میں یہ تعین کیا جاتا ہے کہ کیا انہیں دشمن فوجی قرار دیا جا سکتا ہے۔
ماضی میں اس طرح کی عدالتی کارروائیاں میں باہر کے مبصرین کو شریک ہونے کی اجازت تھی لیکن ان چودہ افراد کے بارے میں پینٹاگون نے فیصلہ کیا کہ ان کا معاملہ بہت حساس ہے۔
بندے کمرے کی عدالتی کارروائی سے قبل ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ان میں کچھ قیدی اپنے پکڑے جانے کے بارے میں حقائق سے پردہ ہٹائیں اس بنا پر ان کے بیانات کلی طور جاری نہیں کیئے جائیں گے۔
وکلاء کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے ساری عدالتی کارروائی مشکوک ہو جائے گی۔