Wednesday, 07 March, 2007, 09:33 GMT 14:33 PST
اسرائیلی اور فلسطینی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے رملہ میں فلسطین کے فوجی ہیڈکوارٹر پر چھاپہ مار کر اٹھارہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے تمام افراد پر شبہہ ہے کہ وہ اسرائیلی شہریوں پر گولی چلانے میں ملوث تھے اور انہوں نے فلسطینی فوجی ہیڈ کوارٹر میں پناہ لے لی تھی۔
دو ہفتوں کے دوران غربِ اردن میں اسرائیلی فوج نے کئی چھاپے مارے ہیں جن میں رملہ میں فوجی ہیڈکوارٹر پر مارا جانے والا چھاپہ تازہ ترین ہے۔
اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ وہ شدت پسندوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ تاہم فلسطینی اہلکاروں کا الزام ہے کہ اسرائیلی بغیر کسی اشتعال کے جارحیت کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
رملہ میں چھاپے کے دوران اسرائیلی فوجی کی لگ بھگ تیس گاڑیوں نے عمارت کے ارد گرد گھیرا ڈال لیا اور مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔اسرائیلی فوج نے ہتھیار بھی قبضے میں لیے ہیں۔
گرفتار کیے جانے والوں میں خلیل سہئلو بھی شامل ہیں جو فلسطینی صدر محمود عباس کی الفتح تحریک سے منسلک ملیشیا الاقصیٰ بریگیڈ کے رکن ہیں۔ وہ اسرائیلی حکام کو سنہ دو ہزار میں فلسطینی انتفادہ کے آغاز کے بعد سے مطلوب ہیں۔
گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے کے شہر نابلوس میں ایک آپریشن کیا تھا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اس آپریشن کا مقصد ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی اور ان افراد کی گرفتاری تھا جو اسرائیلی اہداف پر حملوں میں ملوث ہیں۔