گذشتہ اتوار کو تہران سے حراست میں لی جانے والی تینتیس خواتین کے عزیزوں کے مطابق انہوں نے جیل میں بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
عزیزوں کا کہنا ہے کہ ان خواتین نے بھوک ہڑتال کا فیصلہ اپنے گروپ کی کچھ دوسری ارکان کو مسلسل قید میں رکھنے کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا ہے۔
یہ خواتین ان پانچ خواتین کے ساتھ یکجہتی کے لیے مظاہرہ کر رہی تھیں جنہیں گزشتہ سال جون میں کچھ قوانین کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان خواتین کا خیال تھا کہ مذکورہ قوانین عورتوں کے خلاف تعصب پر مبنی ہیں۔
پانچوں خواتین پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کرنے، ریاست کے خلاف پراپیگنڈا کرنے اور غیر قانونی اجتماع میں شرکت کرنے کے الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
زیر حراست تینتیس خواتین کے عزیزوں نے مزید بتایا کہ وہ اپنی سات قدرے کم عمر ساتھیوں کو حراست میں رکھنے کے خلاف بھوک ہڑتال کر رہی ہیں کیونکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ان کی کم عمر ساتھیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔
احتجاج کے منصوبے |
نامہ نگار کے مطابق زیر حراست خواتین میں چند نے اپنے گھر والوں سے ٹیلیفون پر بھی بات کی تھی۔
ان میں سے ایک کے شوہر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکام ان کی اہلیہ کی ضمانت کے لیے چھبیس ہزار پونڈ کی رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ہماری نامہ نگار کے مطابق حکام کی کوشش ہے کہ خواتین آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کسی بھی قسم کے احتجاج سے باز رہیں، لیکن خواتین کے مخلتف گروپوں نے اس دن پارلیمان کی عمارت کے سامنے اور تہران یونیورسٹی میں احتجاج کے منصوبے بنائے ہیں۔
یہاں تک کہ ایک گروپ کا اس قانون کے خلاف بھی احتجاج کرنے کا ارادہ ہے جس کے تحت ایرانی خواتین پر لازم ہے کہ وہ اسلامی لباس پہنیں۔