http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 06 March, 2007, 07:50 GMT 12:50 PST

’پوست سکیورٹی اشو ہے‘

اقوام ِمتحدہ نے افغانستان میں رواں سال کے دوران پوست کی پیداوار میں زیادہ اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس خدشے کا اظہار ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے کہ جب پوست کی پیداوار پہلے ہی ریکارڈ حدوں کو چھو رہی ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پوست کی پیداوار میں گزشتہ سال یعنی 2006 میں پچیس فیصد اضافہ ہوا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ افغانستان میں ہیروئن بنانے کے لیے پوست کی پیداوار میں ملک کے شمالی اور مرکزی حصے میں کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم ملک کے جنوبی حصے جہاں اس وقت لاقانونیت کا دور دورہ ہے اس کی پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ متوقع ہے۔

اقوام متحدہ نے چرس کی پیداوار میں بھی ڈرامائی اضافے کااشارہ دیتے ہوئے اسے ایک نیا اور تشویش ناک رجحان قرار دیا ہے۔

پیر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں منشیات اور جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر کا کہنا ہے کہ یہ صاف ظاہر ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں پوست کی کاشت میں اضافہ ایک سکیورٹی ایشو ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے جنوب میں ایک بڑے علاقے پر حکومتی اثر و رسوخ نہیں ہے جبکہ پوست کاشت کرنے والے کسانوں کی طالبان پشت پناہی کرتے ہیں تاکہ اس کی فروخت سے حاصل ہونے والے آمدنی کو ملک میں مزاحمتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر سکیں۔
طالبان کو افغانستان میں پوست کی کاشت کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے

یواین ڈیپارٹمنٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انتونیو کوسٹا کا کہنا ہے کہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ پوست کی پیداوار سے مزاحمت کاروں کو آمدنی ہو رہی ہے جسے وہ اپنے کارکنوں کو تنخواہوں کی ادائیگی اور ہتھیار خریدنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سب باتوں کی وجہ سے ہی ملک میں مزاحمت بڑھی اور منشیات کی غیرقانونی پیداوار میں اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ پوست کی کاشت سے متعلق اقدامات میں اضافے اور انہیں مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔گزشتہ سال پوست کی کاشت میں دس فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی تاہم ان کا کہنا تھا کہ پوست کی پیداوار میں تیس فیصد تک کمی ہونی چاہیے۔

ملک میں پوست کی کاشت کے خاتمے سے متعلق امریکی اور برطانوی فوج کی کوششوں کے چار سال بعد بھی اس وقت افغانستان میں دنیا کی نوے فیصد پوست پیدا ہوتی ہے۔