Sunday, 04 March, 2007, 13:17 GMT 18:17 PST
چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سال دو ہزار سات میں ان کا ملک اپنے دفاعی بجٹ میں 17.8 فیصد اضافہ کرے گا۔
ترجمان ژیانگ اینزو نے کہا کہ آنے والے مالی سال میں دفاعی اخراجات 350.92 ارب یوان ہونگے، جو کہ پچھلے سال کی نسبت 52.99 ارب یوان زیادہ ہیں۔
دفاعی بجٹ میں اضافے کا اعلان چینی قانون سازوں کے پارلمیانی اجلاس سے ایک روز قبل کیا گیا ہے۔
ژیانگ اینزو کا کہنا تھا کہ دفاعی بجٹ میں بڑھائے گئے وسائل سے فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافہ اور ہتھیاروں کو جدید کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چین اپنی فوج کو، جو کہ دنیا کی بڑی لیکن ساز و سامان کے اعتبار سے ایک پسماندہ فوج ہے، جدید اسلحہ سے لیس کرنے کے لیے نئے بحری جہاز، میزائل اور جنگی طیارے تیار کرنا چاہتا ہے۔
امریکہ نے چین کے بڑھتے ہوئے دفاعی بجٹ پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے کیے جانے والے اخراجات کو شفاف بنانے پر زور دیا ہے۔
امریکی نائب صدر ڈک چینی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ چینی فوج کا بڑھتا ہوا حجم اور جنوری میں کیا جانے والا ایک میزائل تجربہ، جس میں ایک غیر متحرک موسمیاتی سیارے کو تباہ کیا گیا تھا، چین کی طرف سے بیان کردہ امن کے دعوؤں کا غماز نہیں ہے۔
ترجمان نے خفیہ مقاصد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین کی حکمت عملی صرف دفاعی ہے۔ ’آپ کیا کریں گے اگر آپ کا ہمسایہ دروازے میں پڑی دراڑ سے گھر کے اندر جھانکے بھی اور با آواز بلند دروازہ کھولنے کو بھی کہے کہ دیکھنا چاہتا ہے اندر کیا ہے ۔۔۔ تو کیا آپ پولیس کو بلائیں گے؟‘
ان کا کہنا تھا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، چین ترقی کے پر امن مقاصد پر یقین رکھتے ہوئے مشترکہ خوشحالی کا خواہاں ہے۔ ’اسی اصول کی وجہ سے چین نے دنیا بھر سے اعتماد اور تعاون حاصل کیا ہے‘۔