Saturday, 03 March, 2007, 10:00 GMT 15:00 PST
عراق اور افغانستان میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کے علاج معالجے میں غفلت پر ہونے والے تنازعہ میں فوج کے سیکرٹری فرانسس ہاروی احتجاجاً مستعفی ہوگئے ہیں۔
فرانسس ہاروی نے استعفٰی ایسے وقت میں دیا ہے جب خبروں میں آ رہا ہے کہ واشنگٹن کے والٹر ریڈ ہسپتال میں پہنچنے والے زخمی فوجیوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی برتی جا رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا تھا کہ کچھ فوجیوں کو ہسپتال کے ان حصوں میں رکھا گیا جہاں بے شمار چوہے اور لال بیگ پائے جاتے ہیں۔
فرانسس ہاروی کو نومبر دو ہزار چار میں تعینات کیا گیا تھا اور بطور سیکرٹری ان کی ذمہ داری امریکی فوج کی کارکردگی کو مؤثر بنانا تھا۔
ان کے مستعفی ہونے کا اعلان وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کیا۔
فرانسس ہاروی کے استعفے سے ایک دن قبل والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سینٹر کے سربراہ میجر جنرل جارج ویٹمین کو اپنے عہدے سے برخاست کر دیا گیا تھا۔
![]() | |
| والٹر ریڈ سینٹر میں مریضوں کی نامناسب دیکھ بھال کی خبریں گزشتہ ہفتے سے آرہی تھیں |
واشنگٹن پوسٹ نے اپنے سلسلہ وار مضامین میں دعوٰی کیا تھا کہ فوجیوں کے اس مشہور ترین ہسپتال کی صورتحال بہت بری ہے۔ مضامین میں کہا گیا کہ مریض چوہوں سے بھرے کمروں میں رہنے پر مجبور ہیں اور جو اہلکار بری طرح زخمی مریضوں کو مدد فراہم کرنا چاہتے تھے ان کی راہ میں افسر شاہی آ گئی۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ چونکہ امریکی عوام زخمی فوجیوں کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس لیے اس معاملے کے خاطر خواہ اثرات ہوئے ہیں۔
وزیر دفاع نے مذید کہا ’ میں فکر مند ہوں کہ کچھ لوگ نہیں سمجھتے کہ زخمی فوجیوں اور ان کے گھر والوں سے بات چیت کرنا کتنا ضروری ہے۔ مریضوں کی دیکھ بھال سے بڑھ کر ہمیں کوئی کام نہیں ہے۔‘
صدر بش ایک نے سیاسی جماعتوں کے ارکان پر مشتمل ایک کمیشن قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جو فوجیوں کی دیکھ بھال کی نگرانی کرے گا۔