Saturday, 03 March, 2007, 11:21 GMT 16:21 PST
ڈنمارک میں نوجوانوں کے ایک مرکز پر قابض بائیں بازو کے افراد کو ہٹائے جانے کی مخالفت کرنے والے لگ بھگ 100 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
دارالحکومت کوپن ہیگن میں واقع اس مرکز پر یہ مظاہرہ دو دن سے جاری ہے۔
جمعہ کی شب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ مظاہرین نے کاروں کو آگ لگادی اور پیٹرول بم پھینکے۔
بائیں بازو کے کارکنوں نے نوجوانوں کے اس مرکز پر 1982 سے قبضہ کررکھا ہے لیکن سن 2000 میں اس عمارت کو ایک قدامت پسند مسیحی تنظیم نے خرید لیا۔
مرکز پر 1982 سے قبضہ |
پولیس نے بتایا کہ سنیچر کی صبح بھی مظاہرین نے پتھر پھینکے، کاروں کو آگ لگادی، توڑ پھوڑ کی اور راستے بلاک کردیے۔
پولیس کے ترجمان فلیمنگ اسٹِین نے بتایا کہ کم سے کم ایک سو مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اختتام ہفتہ پر تشدد اور توڑ پھوڑ کا خدشہ برقرار ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں فرانس، جرمنی، ناروے، پولینڈ، لتھوینیا، نیوزی لینڈ اور امریکہ کے شہری بھی شامل ہیں۔ ڈنمارک کی حکومت نے مظاہرین کی مذمت کی ہے۔