Friday, 02 March, 2007, 16:14 GMT 21:14 PST
شاہ زیب جیلانی
بی بی سی، واشنگٹن
واشنگٹن میں پاکستانی سفیر محمود علی درانی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان پر غیرضروری دباؤ ملک میں افراتفری اور صدر جنرل پرویز مشرف کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے جس کا فائدہ انتہا پسند قوتیں اٹھائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندرونی مسائل کا مسلسل الزام پاکستان کے سر ڈالنے اور پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد روکنے کی امریکی دھمکیوں سے پاکستان مسائل کا شکار ہو سکتا ہے جو شاید کسی کے مفاد میں نہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمود علی درانی نے مزید کہا ’ہم امریکی حکومت سے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان آپ کا دوست ہے، آپ کی مدد کرنا چاہتا ہے اور اس پر غیرضروری دباؤ ڈالنے کی بجائے حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر خطے میں اپنے مفادات کے لیے کام کر سکتے ہیں‘۔
پاکستانی سفیر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹ میں گیارہ ستمبر جیسے حملے روکنے سے متعلق داخلی سلامتی کے اہم قانون پر بحث جاری ہے۔
ایوانِ نمائندگان کی طرف سے پہلے ہی منظور اسی طرح کے مسودہِ قانون میں پاکستان کے لیے آئندہ امریکی فوجی امداد کو پاکستان کی طرف سے طالبان کو پوری طرح کچلنے کی کوششوں سے مشروط کیا جا چکا ہے۔
پاکستان اپنے کروڑوں ڈالر کے فوجی سازوسامان، جدید ہتھیاروں اور میزائلوں کی خرید کے لیے بڑی حد تک امریکہ پر ہی انحصار کرتا ہے۔
بش حکومت کا سرکاری موقف ہے کہ وہ پاکستان پر نئی شرائط غیرضروری سمجھتی ہے اور ان کی مخالفت کرے گی۔ تاہم بعض مبصرین کا خیال ہے کہ عین موقع پر بش حکومت شاید اپنی ’مجبوری‘ کا اظہار کر دے۔
پچھلے چند ہفتوں میں، مجوزہ قانون کے خلاف رائے ہموار کرنے کے لیے واشنگٹن میں پاکستانی حکام نے حکومتی اراکان اور کانگریس کے لوگوں کے ساتھ رابطے تیز کر دیئے ہیں۔
پاکستان کی کوشش ہے کہ امریکی سینٹ، ایوانِ نمائندگان کی طرف سے منظور کردہ شرائط کو خاطر میں نہ لائے اور اگر سینٹ میں پاکستان سے متعلق کوئی قانون منظور ہو بھی جائے تو اس میں پاکستان کے لیے فوجی یا اقتصادی امداد روکنے سے متعلق کم از کم کڑی شرطیں شامل نہ ہوں۔
اس ہفتے امریکی نائب صدر ڈک چینی اسلام آباد کے اپنے قدرے خفیہ رکھے گئے اور مختصر دورے میں صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کر چکے ہیں۔ با اثر امریکی اخبارات نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ تھا کہ ڈک چینی پاکستانی قیادت کے لیے افغانستان میں مکمل تعاون کرنے کا ’سخت پیغام‘ لے کر گئے تھے۔
تاہم وائٹ ہاؤس اب تک ان ’اطلاعات‘ کی تردید کرتا آ رہا ہے۔
لیکن بش انتظامیہ کا اصرار رہا ہے کہ گو جنرل مشرف نے دہشتگردی کے خلاف مہم میں امریکہ کا کھل کر ساتھ دیا ہے، پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ان کے ’امن معاہدے‘ افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے سخت مشکلات کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
امریکی سینٹ میں داخلی سلامتی سے متعلق قوانین پر بدھ سے شروع ہونے والی بحث میں ابھی تک پاکستان سے متعلق شق زیرِ غور نہیں آئی۔ بحث جمع کو تیسرے روز بھی جاری رہے گی۔