Friday, 02 March, 2007, 09:05 GMT 14:05 PST
امریکہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ سال کے دوران افیون کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
منشیات سے متعلق امریکی وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ منشیات کی بڑھتی ہوئی تجارت کی وجہ سے طالبان کے خلاف جنگ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس اضافے کی وجہ سے یورپ اور مشرق وسطی میں ہیروئن کے استعمال میں اضافے کا امکان زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق سن2006 کے دوران افیون کی پیداوار میں پچیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے جسے امریکی نائب وزیر خارجہ این پیٹرسن نے خطرناک قرار دیا ہے۔
امریکہ اور اسکے اتحادی برطانیہ نےگزشتہ چار سال سے افیون کی پیداوار کے خاتمہ کے لیے کوششیں شروع کی ہیں لیکن اسکے باوجود دنیا میں افیون کی تجارت میں افغانستان کا حصہ نوے فیصد ہے۔
امریکہ نے حال ہی میں افغانستان کو دس بلین ڈالر کی امداد دی ہے لیکن اس سلسلے میں زیادہ رقم کاشتکاروں کو متبادل ذرائع کی تلاش کی بجائے سکیورٹی کے معاملات پر خرچ ہوگی۔
رپورٹ میں جنوبی امریکہ کے بائیں بازو کے رہنماوں جیسے وینز ویلا کے ہوگو شاویز اور بولویا کے رہنما ایوو مورلیز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ منشیات کی تجارت کی روک تھام میں ناکام ہوئے ہیں اور اس سلسے میں میں ناکافی اقدامات اٹھارہے ہیں۔