http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 01 March, 2007, 23:50 GMT 04:50 PST

’آب و ہوا کا خطرہ جنگوں جتنا بڑا ہے‘

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے دنیا کو درپیش خطرہ اتنا ہی بڑا ہے جتنا کہ جنگ کی وجہ سے۔

انہوں نے امریکہ سے، جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ ماحولیاتی آلودگی پیدا کرتا ہے، کہا کہ وہ اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دے۔

اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار لورا ٹریولین کے مطابق ماحولیاتی ماہر سیکریٹری جنرل سے کہتے رہے ہیں کہ وہ آب و ہوا میں تبدیلی کے مسئلے کو اجاگر کریں۔ کیونکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں دنیا کو رہنمائی چاہیئے اور نئے سیکریٹری جنرل اس بارے میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بان کی مون نے اقوامِ متحدہ میں بچوں کے ایک وفد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آب و ہوا کے مسئلے کا اتنا ہی بڑا خطرہ ہے جتنا کہ جنگ کا۔
ہوا سے بجلی پیدا ہو رہی ہے
ماحولیات پر کام کرنے والے ماہرین توانائی حاصل کرنے کے دوسرے طریقوں پر زور دیتے ہیں

انوں نے کہا کہ افریقہ اور چھوٹے جزایر والی ریاستیں اس بات کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگت رہی ہیں، حالانکہ ان کا قصور سب سے کم ہے۔

بان کی مون نے متنبہ کیا کہ مستقبل میں ماحول میں تبدیلی کی وجہ سے پڑنے والے قحط اور ساحلوں علاقوں میں سیلابوں کی وجہ سے کشیدگی اور جنگیں ہوں گی۔

اقوامِ متحدہ دسمبر میں آب و ہوا کے مسئلے پر ایک کانفرنس منعقد کر رہا ہے۔

کیوٹو معاہدہ 2012 میں ختم ہو جائے گا۔ اس لیے اس سے قبل ماحولیاتی آلودگی کو روکنے کے لیے نئے اقدام پر متفق ہونا ضروری ہے۔