Wednesday, 28 February, 2007, 10:24 GMT 15:24 PST
روس نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ سال کےانتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے فلسطینی انتظامیہ پر عائد کی گئی پابندیوں کو ختم کرانےکے لیے کوششیں کرے گا۔
روس نے یہ اعلان ایک ایسےموقع پر کیا ہے جب حماس کے رہنما خالد مشعل روس کا دورہ کر رہے ہیں۔
روس نے امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت کا خطرہ اس وقت مول لیا جب اس نے حماس کے ساتھ بات چیت کافیصلہ کیا۔
یہ گزشتہ ایک سال سے کم عرصے میں دوسرا موقع ہے کہ حماس کے رہنماؤں کو ماسکو مدعو کیا گیا ہے۔ تاہم روس کو اپنے اس عمل پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے فلسطین میں قومی حکومت کی تشکیل سے متعلق حالیہ تجاویز کا خیر مقدم کیا ہے۔
خالد مشعل نے روس کی حمایت اور مشورے کا شکریہ ادا کیا ہے۔ تاہم انہوں نے اور نہ ہی روسی وزیرخارجہ نے یہ تفصیل دی ہے کہ روس پابندیاں ہٹانے کے لیے کونسے ٹھوس اقدامات اٹھا سکتا ہے۔
روس، امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد ترک کرکے اسرائیل کو تسلیم کر لے۔
روس کا خیال ہے کہ بات چیت سے ہی ان مقاصد کو بہتر طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب حماس نے اس سلسلے میں دو ٹوک موقف اختیار کیا ہواہے۔
خالد مشعل نے کہا ہے کہ اسرائیل کوغرب اردن اور غزہ پر اپنا قبضہ ختم کرنا ہوگا اور اس کے بعد ہی فلسطینی اپنا لائحہ عمل واضح کریں گے۔