Tuesday, 27 February, 2007, 05:37 GMT 10:37 PST
عراق کی کابینہ نے قومی تیل کے قانون کے نئے مسودے کو منظور کیا ہے جس کے تحت ملک کے تیل کے ذخائر سے آنے والی آمدنی اٹھارہ صوبوں میں مساوی طور پر تقسیم کی جائے گی۔
عراق کے وزیرِ اعظم نور المالکی نے اس معاہدے کو ’عراق کے سارے عوام کے لیے تحفہ قرار دیا ہے‘۔
بل کا مسودہ اب ووٹنگ کے لیے عراق کی پارلیمان کے سامنے پیش کیا جائے گا، جہاں منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
عراق تیل کے سب سے زیادہ ذخائر رکھنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ عراق میں آجکل تیل کے زیادہ ذخائر جنوب میں شیعہ اکثریت کے علاقے میں ہیں جبکہ مستقبل میں کرد اکثریت کے شمالی علاقے میں تیل کے بڑے ذخائر ملنے کی امید ہے۔
امریکہ نے عراقی کابینہ کے اس فیصلے کو خوش آمدید کہا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق ’اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بغداد میں حکومت تمام عراقیوں کی فلاح کے لیے کام کر رہی ہے‘۔
نئے قانون کا مسودہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ عراق کے خام تیل کی تقسیم شیعہ، سنی اور کردوں کے درمیان مساوی طور پر ہو سکے اور تیل کی صنعت کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔
نامہ نگاروں کے مطابق نیا اقدام جو کہ بحث کا ایک گرم موضوع تھا شیعہ، سنیوں اور کردوں کے درمیان تعلقات بحال کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔