Tuesday, 27 February, 2007, 04:22 GMT 09:22 PST
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن اور جرمنی جمعرات کو ایران پر مزید پابندیاں لگانے کے نئے مسودے پر غور کریں گے۔
یہ اعلان لندن میں سینئر سفارتکاروں کی اس ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران کے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو بند کرنے سے انکار پر بات چیت کی گئی۔ سفارتکار اس بات کا جائزہ لیتے رہے کہ ایران کے انکار پر کس طرح ردِ عمل ظاہر کیا جائے۔
دوسری طرف امریکہ نے لندن مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین ملک اور جرمنی کے سینئر سفارتکار جمعرات کو ٹیلیفون پراقوامِ متحدہ کے ایران پر پابندیوں کے نئے مسودے پر بات کریں گے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ لندن مذاکرات سے واضح طور پر کچھ سامنے نہیں آیا لیکن امریکہ کے مطابق یہ تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے پہلا قدم ہے۔
![]() | |
| ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن ہے |
دریں اثناء امریکہ نے ایران پر فوجی کارروائی کے اشاروں کو نظر انداز کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا ایران پر قبضہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
بی بی سی کے واشنگٹن میں نامہ نگار کے مطابق امریکہ یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ حقیقی طور پر سفارتی حل کی کوششیں کر رہا ہے۔