ایران کا کہنا ہے کہ اس نے پہلی بار خلا میں راکٹ بھیجنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس راکٹ کا نام کاوش ہے۔
اس سے قبل روس ایران کی خلائی معاملات میں مدد کرتا رہا ہے لیکن اس بار یہ تجربہ ایران نے خود کیا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک اعلان میں میں کہا گیا ہے کہ راکٹ میں تحقیقی کارگو موجود تھا۔ خلائی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ محسن بہرامی کو ٹی وی پراعلان کرتے سنا گیا ’پہلا خلائی راکٹ کامیابی کے ساتھ خلاء میں لانچ کیا گیا ہے۔ راکٹ میں تحقیق کی غرض سے مادہ تھا جو وزارت سائنس نے تیار کیا تھا۔‘
راکٹ کا یہ تجربہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب جوہری معاملے کے حوالے سے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار فرنسس ہریسن کا کہنا ہے کہ ایران نے اس راکٹ کے لانچ کے لیے اپنے بیلسٹک میزائل شہاب کے طرز کی ایڈوانس ٹیکنالوجی استعمال کی ہوگی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ کامیاب تجربہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایران نے خلائی سائنس کی تمام حدوں کو پار کرلیا ہے اور اب وہ دور تک مار کرنے والے میزائل باآسانی تیار کرسکتا ہے۔
نامہ نگاروں کے مطابق تجربے کے لیے جس وقت کا انتخاب کیا گیا ہے اس سے محاذ آرائی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ادھر جرمنی سمیت سکیورٹی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے لندن میں پیر کو ملاقات کرنے والے ہیں۔
ایران کے صدر احمدی نژاد نے پیر کے روز ایک بار پھر کہا ہے کہ ایرن مغربی ممالک کے دباؤ میں اپنے جوہری پرگرام کو نہیں روکےگا۔