Saturday, 24 February, 2007, 15:24 GMT 20:24 PST
اقوام متحدہ کی ہدایت پر تیار کی جانے والی ایک غیرجانبدار رپورٹ میں غزہ اور غرب اردن میں اسرائیلی کارروائیوں کو جنوبی افریقہ کی سابقہ نسل پرست حکومت کی کاروائیوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔
ان الزامات پر اسرائیل کی جانب سے سخت ردعمل آیا ہے۔
اسرائیل فلسطین تنازعے پر اِس رپورٹ کے مصنف جان ڈوگارڈ جنوبی افریقہ کے ایک وکیل ہیں اور انیس سو اسّی کی دہائی میں وہ وہاں کی نسل پرست حکومت کے خلاف جدوجہد بھی کرتے رہے ہیں۔
اگرچہ یہ رپورٹ اگلے ماہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں پیش کی جائے گی لیکن ادارے کی ویب سائیٹ پر یہ شائع کردی گئی ہے۔
چوبیس صفحوں پر مبنی اِس رپورٹ میں ’یہودی مملکت‘ پر لگائے جانے والے الزامات میں فلسطینیوں کی آمد و رفت پر پابندی، مکانوں کو منہدم کرنے اور غرب اردن میں یہودی آباد کاروں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔
حملوں کی روک تھام |
مسٹر ڈوگارڈ اپنی رپورٹ میں کہتے ہیں کہ یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ دو ہزار پانچ میں غزہ سے یہودی آباد کاروں اور فوج کا انخلاء اس علاقے پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ہے جو اسرائیل نے انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں مصر سے حاصل کیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کا فضائی، بحری اور بری کنٹرول اب بھی اسرائیل کے پاس ہے اور سرحدی چوکیوں کی وجہ سے غزہ اب بھی ایک محصور اور مقبوضہ علاقے کی طرح ہی ہے۔
گزشتہ موسم گرما میں مسٹر ڈوگارڈ کو اپنی رپورٹ کے لئے حقائق جمع کرنے کے مشن پر اسرائیل نے غزہ آنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
اُدھر جینیوا میں اسرائیل کے سفیر یتزاک لیوانون نے جان ڈوگارڈ پر صرف اسرائیل کو ہی تنقید کا نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے اِس رپورٹ سے وہ جو بھی نتیجہ اخذ کریں گے وہ بنیادی طور پر غلط اور جانبدار ہوگا۔
دو ہزار ایک میں اقوام متحدہ کے اب ختم کر دیے جانے والے انسانی حقوق کمیشن نے جان ڈوگارڈ کو اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کی تفتیش کرنے والے ماہر کے طور پرتعینات کیا تھا جس کی بنیاد پر اُن کی رپورٹوں کو امریکہ اور اسرائیل نے جانبدار قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔
اِسی دوران جنوبی غزہ کے قصبے خان یونس میں حماس اور الفتح کے حامیوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک اور بیس کے قریب زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ جھڑپیں حماس کے ایک رکن کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئیں ہیں۔
تین ہفتے قبل مکہ میں دونوں تنظیموں کے درمیان قومی یکجہتی حکومت کے قیام کے حوالے سے سمجھوتے کے بعد یہ تشدد کا پہلا بڑا واقعہ ہے۔