Friday, 23 February, 2007, 10:13 GMT 15:13 PST
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری پروگرام کا ہر ممکن حد تک دفاع کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دشمنوں کے سامنے کمزور نہیں پڑ سکتا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ماضی میں پرامن جوہری پروگرام کے حوالے سے کیے جانے والے سمجھوتوں کے نتیجے میں صرف مغرب کے مطالبات میں ہی اضافہ ہوا ہے۔
ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے ( IAEA ) کی نئی رپورٹ کے بعد ایرانی صدر کا یہ پہلا بیان ہے۔
ادھر سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے نمائندے پیر کو لندن میں ایران پر مزید پابندیاں لگانے کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔امریکی نائب وزیرِ خارجہ نکولس برنز کے مطابق اس ملاقات میں ایران کے خلاف پابندیوں کی ایک اور قرارداد کے مسودے پر بات ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جوہری معاملات پر ایرانی رویے نے عالمی برادری کو زچ کر دیا ہے۔
ایران نے اقوام متحدہ کے اس مطالبے کو بھی دوبارہ مسترد کر دیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی بند کر دے۔جوہری معاملات کے ایک ایرانی اہلکار محمد سعید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایسا مطالبہ کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور مغربی ممالک کے ان دعوؤں میں کوئی سچائی نہیں کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
ایرانی اہلکار محمد سعید کا کہنا تھا ’ایران سمجھتا ہے کہ یورینیم کی افزودگی معطل کرنا اس کے حقوق، بین الاقوامی قوانین اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے خلاف ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ان عوامل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کا ملک سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 1737 کو تسلیم نہیں کرتا، جس کے تحت ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی معطل کر دے۔ انہوں نے کہا ’مسئلہ حل کرنے کا بہترین طریقہ مذاکرات میں پوشیدہ ہے‘۔
ادھر جرمنی کے شہر برلن میں موجود امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بھی کہا ہے کہ امریکہ، روس، جرمنی اور یورپی یونین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی طرح ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے۔