http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 22 February, 2007, 02:40 GMT 07:40 PST

امریکہ کی جیت یا تنہائی ؟

عراق سے جزوی طور پر برطانوی فوج واپس بلانے کے اعلان نے امریکہ کے سیاسی حلقوں اور ذرائع ابلاغ میں ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ عراقی صدر جلال طالبان نے برطانوی اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ جبکہ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ اب صدر بش پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے کہ وہ بھی امریکی فوج کو عراق سے واپس بلائیں۔

وائٹ ہاؤس جو پہلے ہی سے برطانیہ کے بصرہ سے فوج میں تخفیف کےفیصلے سے باخبر تھا، یہ عندیہ دینے کی کوشش کررہا ہے کہ برطانوی فوج کا انخلاء دراصل عراق میں اتحادی افواج اور سکیورٹی پالیسی کی کامیابی کی دلیل ہے۔

امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی نے جو جاپان کے دورے پر ہیں اس تناظر میں کہا ہے کہ برطانوی فوج کی واپسی دراصل اس بات کی عکاس ہے کہ عراق کے جنوب میں سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہوگئی ہے۔

تاہم امریکہ میں حکومت کے مخا لفین کہتے ہیں کہ اگر صورتحال اتنی ہی اطمنان بخش ہے تو امریکہ کو عراق میں مزیداکیس ہزار پانچ سو فوجی بھیجنے کی کیا ضروت آن پڑی۔
اس بارے میں نیویارک میں کچھ شہریوں کی رائے ہے کہ اب امریکہ کو بھی برطانیہ کی پیروی کرنی چائیے۔ایک شہری بل ڈینیسن کا کہنا تھا ’میں نہیں سمجھتا کہ عراق کی لڑائی میں امریکہ کے کوئی زیادہ حلیف ہیں۔یہ دراصل ہماری جنگ ہے۔ یا یوں کہہ لیجئے یہ بش انتظامیہ کا منصوبہ تھا جو تباہی پر منتج ہوا ہے۔ میرا خیال ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو امریکہ کو اپنی فوج عراق سے نکال لینی چائیے۔‘

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی کہتے ہیں کہ برطانیہ کے عراق کے جنوب سے فوج کے ایک حصے کو واپس بلانے کے اعلان کے بعد امریکہ میں عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ فیصلہ امریکی حکومت کے لیے ایک دھچکا ہے۔

ادھرعراق کے صدر جلال طالبانی نے برطانوی فوج میں تخفیف کے فیصلے کو سرا تے ہوئے کہا ہے کہ کہ یہ عراقی فوج کی صلاحتیوں کا اعتراف ہے۔