Thursday, 22 February, 2007, 08:04 GMT 13:04 PST
امریکی محکمۂ دفاع کے حکام نے کہا ہے کہ انہیں عراق میں مزاحمت کاروں کے حملوں میں زہریلی کلورین گیس کے استعمال پر تشویش ہے۔ اسی دوران امریکی حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ بغداد میں گرنے والا ہیلی کاپٹر حملے کا نشانہ بنا ہے۔
بدھ کے روز بغداد میں ایک ٹرک میں دھماکہ ہوا تھا جس پر کلورین گیس کے کنستر لدے ہوئے تھے۔اس واقعے میں دو عراقی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے
تھے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک مہینے میں تیسرا واقعہ تھا۔
کلورین سے جلد جل جاتی ہے اور چند سانسوں کے بعد جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ عراق میں گٹروں کی صفائی کے لیے کلورین بڑی مقدار میں موجود ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک عینی شاہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم دکانوں میں کام کر رہے تھے جب دھماکہ ہوا جس سے پیلے رنگ کا دھواں۔ سب کا سانس رکنا شروع ہو گیا‘۔
دریں اثناء خبر رساں اداے اے نے عسکری ماہرین کا حوالہ دیا ہے جنہوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ’انتہا پسندوں‘ کے پاس نیا اسلحہ پہنچ چکا ہے اور انہوں نے اس کے استعمال کی مہارت بھی حاصل کر لی ہے۔
امریکی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے تازہ ترین واقعے میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا اور اس پر سوار نو افراد کو بچا لیا گیا تھا۔
بیس جنوری کے بعد سے عراق میں مزاحمت کاروں نے سات ہیلی کاپٹر گرائے ہیں جن میں اٹھائیس امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
ان حملوں سے خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ مزاحمت کار پروازوں کے اوقات اور راستوں کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں یا پھر انہوں نے جدید اسلحہ حاصل کر لیتا ہے۔