Thursday, 22 February, 2007, 10:27 GMT 15:27 PST
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نےعراق میں سکیورٹی کی خراب صورتحال پر یہ کہہ کر معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ وہاں ہونے والے خون خرابے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
بلئیر نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ عراق میں اور خاص طور پر بغداد کے گرد صورتحال انتہائی خراب ہے لیکن یہ تشدد مزاحمت کاروں اور ملیشیا گروپ کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا کہ عراق کی موجودہ صورتحال سن دو ہزار تین میں ہونے والے امریکی حملے کا براہ راست نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عراق میں مستحکم جمہوریت کے قیام تک عراقی عوام کا ساتھ دیں۔
دریں اثناء عراق کے صدر جلال طالبانی نے برطانوی وزیر اعظم کے عراق میں برطانوی فوج میں کمی کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے عراق فوج کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا موقع ملے گا۔
ٹونی بلیئر نے برطانوی فوجیوں کی تعداد سات ہزار ایک سو سے کم کر کے پانچ ہزار پانچ سو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔