Tuesday, 20 February, 2007, 11:12 GMT 16:12 PST
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے عالمی برادری کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کے عمل کو معطل کرنے مطالبے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایسا صرف اسی صورت میں کرے گا جب اس عمل کا مطالبہ کرنے والے ممالک خود بھی جوہری ایندھن کی تیاری بند کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اس حوالے سے کوئی شرط عائد نہ کی جائے۔
یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایران کو یورینیم کی افزودگی کا عمل روکنے کے لیے دی گئی دو ماہ کی مہلت بھی اکیس فروری کو ختم ہو رہی ہے۔
ادھر جوہری معاملات پر ایران کے چیف مذاکرات کار علی لاریجانی اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادعی سے ویانا میں ملاقات کر رہے ہیں۔ بات چیت کے آغاز سے قبل انہوں نے کہا’ہم مذاکرات کے آغاز کے ممکنہ طریقے تلاش کر رہے ہیں‘۔
آئی اے ای اے کے سربراہ نے حال ہی میں ایک برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران ممکنہ طور پر صرف چھ ماہ میں صنعتی پیمانے پر یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس جوہری پروگرام کے حوالے سے ابتدائی معلومات موجود ہیں اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی اس کے جوہری عزائم پر بند باندھا جا سکتا ہے۔ محمد البرداعی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایران کے خلاف عسکری طاقت استعمال کی گئی تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سفارتکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے یہ پیشکش بھی کی گئی ہے کہ وہ کمتر درجے کی یورینیم افزودہ کرنے پر تیار ہے جو کہ صرف بطور ایندھن ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تاہم امریکہ نے اس قسم کی تجاویز کو رد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس عمل سے بھی ایران کو افزودگی کا تجربہ حاصل ہو جائے گا جسے مستقبل میں ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے اور اس کا مقصد ملکی ضروریات پورا کرنے کے لیے توانائی کی پیداوار ہے تاہم امریکہ اور دیگر یورپی ممالک ایرانی پروگرام کو درپردہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی کوشش قرار دیتے آئے ہیں۔