Tuesday, 20 February, 2007, 15:46 GMT 20:46 PST
عراق میں ایک سنی خاتون نے عراقی پولیس پر عصمت دری کا الزام عائد کیا ہے جس سے عراقی حکومت میں اختلافات پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
خاتون کا کہنا ہے کہ مزاحمت کاروں کی حمایت کرنے کے ایک جھوٹے الزام میں انہیں ایک پولیس چوکی لے جایا گیا جہاں پولیس نے ان کے ساتھ نا صرف دست درازی کی بلکہ جنسی زیادتی بھی کی۔
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے جو شعیہ ہیں، ان الزامات کو مسترد کردیا ہے جبکہ سینئر سنی اہلکاروں کا اصرار ہے کہ خاتون کا دعوی سچا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع سے وہ نیا سکیورٹی منصوبہ پوری طرح ناکام ہوسکتا ہے جس کے تحت سنی علاقوں میں شیعہ پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔
نوری المالکی کا الزام ہے کہ اس طرح کے غلط بیانات سنی سیاسی جماعتوں کے لیے ہوتے ہیں تاکہ سکیورٹی افواج کو بدنام کیا جاسکے۔
یہ واقعہ اتوار کا ہے اور پیرکی رات کو وزیراعظم نوری المالکی نے اس کی تفتیش کے احکامات دیۓ تھے لیکن چند گھنٹے بعد ہی ان تینوں ملزموں کو الزامات سے بری کردیا گیا۔
وزیواعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق ’طبی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ خاتون کے ساتھ کسی طرح کی جنسی زیادتی نہیں ہوئی ہے۔‘ اس کے ساتھ ان پولیس اہلکاروں کو اعزاز سے نوازنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔
تاہم نائب صدر طارق ہاشمی جو سنّی ہیں ان کے ایک قریبی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے دفتر نے اس معاملے میں جلد بازی سے کام لیا ہے جبکہ ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کردی تھی کہ خاتون کے ساتھ زنا بالجبر ہوا ہے۔
مذکورہ خاتون کی شناخت کو ظاہر نہیں کیا گیا ہے لیکن ایک عربی ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ پر انہوں نے اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کی تفصیل بتائی ہے۔ انہیں بغداد کے پڑوس عامل کے علاقے سے حراست میں لیاگیا تھا اور بقول ان کے انہیں ایک پولیس چوکی لے جایا گیا جہاں تین پولیس افسرں نے ان کے ساتھ زیادتی کی۔
امریکی فوج کے طبی عملے نے خاتون کا معائنہ کیا تھا لیکن فوج کے ترجمان نے اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔
عراق کے سنی سیاسی رہنما پولیس پر اکثر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام عائد کرتے ر ہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سنیوں پر شیعوں کے حملوں کو بھی پوری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے۔