http://bbc.com.im/urdu/

مشرقِ وسطیٰ: آج سہ فریقی مذاکرات

امریکی ’ثالثی‘ میں اسرائیل اور فلسطین کے رہنماؤں کے درمیان سہ فریقی بات چیت اب سے چند گھنٹے بعد یروشلم میں شروع ہونے والی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت اور فلسطینی رہنما محمود عباس سے اکٹھی ملاقات میں امن کے امکانات پر گفتگو کریں گی۔

لیکن فلسطین کی قومی یکجہتی کی حکومت کا قیام ان مذاکرات کا اہم ترین نکتہ رہے گا۔

ایہود اولمرت کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ کسی بھی ایسی فلسطینی حکومت کا بائیکاٹ کریں گے جو اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکاری ہو۔

کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ امریکہ اس وقت تک اپنے رائے کا اظہار نہیں کرے گا جبتک کہ فلسطینی قومی یکجہتی کی حکومت قائم نہیں کر لیتے۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار بیتھنی بیل کا کہنا ہے کہ اس سربراہ ملاقات سے زیادہ امیدیں نہیں لگائی جا سکتیں۔ سنہ دو ہزار تین کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اعلیٰ امریکی اہلکار کی موجودگی میں فلسطین اور اسرائیل کے رہنماؤں کے مذاکرات ہوں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ کہہ چکی ہے کہ وقت کافی پیچیدہ ہے۔

مس رائس نے اتوار کو غربِ اردن کے شہر رملہ میں محمود عباس کے بات چیت کی۔ بعد میں انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت کے ساتھ یروشلم میں گفتگو کی۔

کونڈولیزا رائس کی فلسطینی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقاتوں کے بعد کوئی تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد مشرق وسطی میں امن کے عمل کو بحال کرنا تھا۔

ایہود اولمرت نے کونڈولیزارائس سے ملاقات سے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ فلسطین کی قومی یکجہتی کی حکومت کا اس وقت تک بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا جب تک نئی حکومت تشدد کی راہ ترک کرکے اسرائیل کو تسلیم نہیں کر لیتی۔