Sunday, 18 February, 2007, 11:38 GMT 16:38 PST
اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کسی بھی ایسی نئی فلسطینی حکومت کے ساتھ کام نہیں کریں گے جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی۔ اولمرت کا کہنا ہے کہ جمعہ کو امریکی صدر بش اور انہوں نے اس موقف پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے یہ بیان امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے ملاقات سے قبل جاری کیا ہے۔
کونڈولیزا رائس اتوار کو فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کررہی ہیں۔ پیر کو وہ محمود عباس اور اولمرت کے ساتھ ایک سہ فریقی اجلاس میں شریک ہوں گی۔
اولمرت کے بیان سے امریکہ کے نئی فلسطینی حکومت سے مذاکرات کرنے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔
فلسطین کی قومی اتحاد کی حکومت میں سب سے بڑی جماعت حماس اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی۔
وزیر اعظم اولمرت نے کہا ہے کہ کوئی بھی فلسطینی انتظامیہ جو چار جماعتی گروپ بشمول امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ کی متعین کردہ شرائط کو نہیں مانے گی اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس سے تعاون کیا جاسکتا ہے۔
چار جماعتی گروپ نے فلسطین سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرلے۔ گزشتہ برس حماس کے انتخابات جیتنے کے بعد سے یورپی یونین، روس اور امریکہ نے فلسطین کا اقتصادی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔
’موزوں‘ وقت نہیں آئے گا۔۔۔ |
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا فلسطینی اور اسرائیلی رہنما اتنے مضبوط ہیں کہ وہ امن کے عمل کی طرف مشکل قدم اٹھا سکیں۔
کونڈولیزا رائس نے مشرقِ وسطٰی کے اپنے چھ روزہ دورے کی ابتداء عراق کے غیر اعلانیہ مختصر دورے سے کی ہے۔ بغداد میں انہوں نے ایک نئے سکیورٹی منصوبے پر غور کیا جس کا مقصد تشدد آمیزی میں کمی کرنا ہے۔
رائس کا کہنا ہے کہ امریکہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل فلسطینی حکومت کی تشکیل کا انتظار کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مشرق وسطٰی آنے کے لیے ’موزوں‘ وقت کا انتظار کیا جائے تو ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا۔
جمعرات کو فلسطینی رہنما اور فتح تنظیم کے سربراہ نے حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ سے کہا ہے کہ قومی اتحاد پر مبنی حکومت تشکیل دی جائے۔