Saturday, 17 February, 2007, 23:27 GMT 04:27 PST
امریکی سینیٹ نے ڈیموکریٹِک پارٹی کی اس قرارداد پر بحث کرنے کے خلاف ووٹ دیا ہے جس میں صدر بش کی عراق پالیسی پر شدید تنقید کی گئی تھی۔
عراق میں مزید فوجی بھیجنے کے جارج بش کے فیصلے کے خلاف ڈیموکریٹِک پارٹی کی تحریرکردہ یہ قرارداد ایوانِ نمائندگان میں جمعہ کو منظور کرلی گئی تھی۔
سنیچر کو سینیٹ میں ووٹنگ کے دوران صدر بش کی ریپبلیکن پارٹی کے سترہ ارکان نے ڈیموکریٹس کے ساتھ بش مخالف قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا۔ تاہم یہ قرارداد منظور نہ کی جاسکی۔
سینیٹ میں 100 اراکین ہوتے ہیں اور اس قرارداد کی منظوری کے لیے ڈیموکریٹ کو کل 60 ووٹوں کی ضرورت تھی لیکن انہیں صرف 56 ووٹ مل سکے۔
بش انتظامیہ کو فوج کی 93 بلین ڈالر کی ہنگامی فنڈِنگ کے لیے کانگریس کے اراکین کی حمایت کی ضرورت ہے۔ بش انتظامیہ نے ڈیموکریٹس کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوج کی مالی فراہمی روکنے کی کوشش نہ کریں۔
بعض ڈیموکریٹِک رہنما امید کررہے تھے کہ جمعہ کو ایوان نمائندگان میں ملنے والی کامیابی انہیں سینیٹ میں بھی مل جائے گی۔ لیکن دو ہفتوں کے دوران یہ دوسرا موقع ہے جب سینیٹ میں ڈیموکریٹس صدر بش کی عراق پالیسی کی مخالفت میں حمایت نہیں جٹا پائیں ہیں۔
سنیچر کو سینیٹ میں ووٹنگ کے لیے ڈیموکریٹِک رہنما ہلری کلنٹن بھی موجود تھیں۔ لیکن ریپبلیکن سینیٹر جان میککین موجود نہیں تھے۔ دونوں کو امریکی صدارت کا امیدوار تصور کیا جاتا ہے۔ ہلری کلنٹن نے جنگِ عراق کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی ناکامی سے بش انتظامیہ کو تھوڑی سی راحت ملی ہے۔ تاہم ڈیموکریٹِک رہنما بش انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔
جمعہ کو ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا تھا کہ ان کی جماعت بش انتظامیہ کو یہ پیغام بھیجنا چاہتی ہے کہ وہ اپنی عراق پالیسی کی سمت تبدیل کرے۔