Friday, 16 February, 2007, 19:42 GMT 00:42 PST
اٹلی میں ایک جج نے چھبیس امریکی شہریوں کو سنہ دوہزار تین میں ایک مصری مبلغ کو اغوا کرنے کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنے کا حکم دیا ہے۔ زیادہ تر افراد خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں۔
مبینہ طور پر سنہ دو ہزار تین میں اسامہ مصطفٰے حسن کو سی آئی نے اغوا کر کے مصر پہنچایا تھا جہاں بقول ان کے ان پر تشدد کیا گیا تھا۔
جج نے جن افراد کو حکم دیا ہے ان میں اٹلی کی فوج کی انٹیلیجنس کے سابق سربراہ نکولو پولاری سمیت اٹلی کے سات شہری بھی شامل ہیں۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہوگا جس میں امریکہ کے ہاتھوں مختلف افراد کی خفیہ منتقلی کے مسئلے کو ایک جرم کے طور پر کسی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ خفیہ منتقلی کے اس عمل کے دوران مبینہ طور پر دہشتگردی میں ملوث افراد کو ایک ملک سے اٹھا کر دوسرے ملک لے جایا جاتا ہے جہاں، زیادہ تر مغویوں کے دعوے کے مطابق، ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔
جج نے جن امریکیوں کو عدالت کا سامنا کرنے کو کہا ہے ان میں سے زیادہ تر اٹلی چھوڑ کر واپس امریکہ جا چکے ہیں۔ اطالوی حکومت نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ امریکہ سے ان افراد کو اٹلی کے حوالے کرنے کی درخواست کرے گی یا نہیں۔
امریکہ نے آج تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
![]() | |
| ایک رپورٹ کے مطابق کئی یورپی حکومتوں نے مشتبہ افراد کی خفیہ منتقلی میں امریکی اداروں کے ساتھ تعاون کیا |
اٹلی کی فوج کی انٹیلیجنس کے سابق سربراہ نکولو پولاری کو پہلے ہی ایک انکوائری کے بعد اپنے عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے۔ جن سات اطالوی باشندوں کو جج نے حکم دیا ہے ان میں سے چھ پر اسامہ مصطفٰے حسن کو اغوا کرنے جبکہ ایک پر اغوا کے بارے میں معلومات کو خفیہ رکھنے کا الزام ہے۔
استغاثہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماضی اور حال کے کئی اطالوی خفیہ ایجنٹوں سے نہایت تفصیلی معلومات اکھٹی کی ہیں جن میں سے کئی ایک نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اسامہ مصطفٰے حسن کے اغوا کی منصوبہ بندی میں امریکہ کے ساتھ کام کیا تھا۔
مقدمے کی کارروائی آٹھ جون کو شروع ہو گی۔
اسامہ مصطفٰے حسن کو، جنہیں ابو عمر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، گزشتہ اتوار کو ہی مصر کی ایک جیل سے رہا کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چار سال میں مصر میں قید کے دوران انہیں کئی بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔