عراقی شیعہ رہنماء مقتدیٰ الصدر کے ترجمان نے اس امریکی دعوے کی تردید کی ہے کہ مقتدیٰ ملک چھوڑ کر ایران چلے گئے ہیں۔
سیاستدان نصر الربائی کو یہ تردیدی بیان اس وقت جاری کرنا پڑا جب عراق میں موجود امریکی فوجی اہلکاروں نے دعویٰ کیا کہ مقتدیٰ الصدر دو یا تین ہفتے قبل عراق چھوڑ کر ایران چلے گئے ہیں۔
امریکہ مقتدیٰ الصدر کی ’مہدی ملیشیا‘ کو غیر مسلح کرنے کے لیے عراقی حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کی بعض واردتوں میں مہدی ملیشیا ملوث ہے۔
مقتدٰی الصدر کی روانگی کی خبر پہلے ایک امریکی ٹیلیویژن چینل پر نشر ہوئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مقتدٰی نے اتحادی فوج کی جانب سے اپنے ٹھکانوں پر بمباری کے خطرے کے پیشِ نظر ملک چھوڑا اور ان کے ہمراہ ان کی تنظیم کے اہم اراکین بھی گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکام مہدی ملیشیا کو عراق میں امن و امان کی صورتحال کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں اور امریکی فوج نے حالیہ مہینوں میں مقتدٰی الصدر کے سینکڑوں حامیوں کو ہلاک یا گرفتار کیا ہے۔ گرفتار کیے جانے والوں میں مقتدٰی کی تنظیم کے سینئر رکن حکیم الزمیلی بھی شامل ہیں۔