Wednesday, 14 February, 2007, 10:26 GMT 15:26 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
افغانستان میں تعینات اتحادی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بدھ کی صبح صوبہ ہلمند کے شہر موسی قلعہ پر ایک فضائی حملہ کے دوران طالبان کے ایک سینئر رہنما کو ہلاک کر دیا ہے۔ تاہم طالبان نے اس دعویٰ کی تردید کی ہے۔
اتحادی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حملہ بدھ کی صبح ساڑھے تین بجے صوبہ ہلمند کے شمال میں ہوا ہے جس میں طالبان کا ایک ٹھکانہ بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
بیان میں ہلاک ہونے والے طالب رہنما کا نام نہیں دیا گیا ہے تاہم طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف کا کہنا ہے کہ اتحادی فوج ملا تور جان کی ہلاکت کا دعویٰ کر رہی ہے جو بقول ان کے بالکل غلط ہے۔
نیٹو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے رہنما کا موسیٰ قلعہ پر طالبان کے قبضے میں اہم کردار تھا جبکہ گزشتہ روز کجکی شہر میں قائم بجلی اور پانی کے ڈیم پر راکٹ حملوں میں بھی انکا ہاتھ تھا۔
طالبان کے ترجمان قاری یوسف نے سٹیلائٹ فون پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اتحادی افواج کے ساتھ طالبان کی گزشتہ دو روز کے دوران صوبہ ہلمند کے متعدد علاقوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔قاری یوسف نے دعویٰ کیا کہ ان جھڑپوں میں نیٹو کے بعض فوجیوں کی ہلاکت کے علاوہ ایک طالب جنگجو ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اتحادی فوج کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ طالبان کا سنیئر رہنما ہلاک ہوا ہے۔ان کے بقول ’مجھے معلوم ہوا ہے کہ اتحادی فوج نے ملا تورجان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے جبکہ وہ زندہ ہیں اور نیٹو نے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ان کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا‘۔
طالبان اور اتحادی افواج کے درمیان گزشتہ برسوں کے برعکس اس سال سردیوں میں زیادہ جھڑپیں ہوئی ہیں اور افغانستان میں نیٹو کے سابق سربراہ ڈیوڈ رچرڈ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ موسم بہار میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔