Tuesday, 13 February, 2007, 21:40 GMT 02:40 PST
عراق کا کہنا ہے کہ وہ بغداد میں سکیورٹی کے لیے بنائے جانے والے نئے منصوبے کے تحت ایران اور شام کے ساتھ ملنے والی سرحد تین دن کے لیے بند کرے گا۔
عراق کے مرکزی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبود قنبر نے ٹی وی پر براِ راست نشر کی جانے والی تقریر میں نئے سکیورٹی منصوبے کی تفصیلات بتائیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ سرحدوں کی یہ بندش کب عمل میں آئے گی۔
عراقی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہّتر گھنٹوں کی بندش کے بعد بھی جب سرحد کھلے گی تو ایران کے ساتھ ملنے والی سرحد کا کچھ حصہ ہی کھولا جائے گا۔ لیفٹیننٹ جنرل عبود قنبر نے اپنی تقریر میں یہ بھی بتایا کہ نئے منصوبے کے تحت انہیں ایمرجنسی حالات میں پولیس اور فوج دونوں کی کمان حاصل ہوگی۔
لیفٹیننٹ جنرل عبود قنبر نے جو کہ سکیورٹی منصوبے کے انچارج بھی ہیں، بتایا کہ نئے منصوبے کے تحت بغداد سے مزاحمت کاروں اور شدت پسندوں کو نکالنے کے لیے شہر کو دس سکیورٹی ڈسٹرکٹس میں تقسیم کیا جائے گا جبکہ اسلحہ پرمٹ صرف امریکی اور عراقی فوج کو دیے جائیں گے۔
نئے منصوبے کے تحت بغداد میں کرفیو کے اوقات میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ عراقی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب بغداد میں کرفیو رات نو بجے کی بجائے آٹھ بجے سے شروع ہوا کرے گا اور صبح چھ بجے تک جاری رہے گا۔
بغداد میں نئے سکیورٹی منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے عراقی فوج کی مدد کے لیے ہزاروں امریکی فوجی بغداد پہنچ رہے ہیں۔
سرحدوں کی بندش کا اعلان امریکہ کی جانب سے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے کہ ایران امریکی افواج پر حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی فراہمی میں ملوث ہے۔ نامہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ سرحد کی طوالت اور بہت کم نگرانی کی وجہ سے سرحدوں کی بندش پر عملدرآمد کیسے ممکن ہوگا۔
ادھر بغداد میں نئی سکیورٹی منصبے کے اعلان کے باوجود پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا اور ایک کالج کے نزدیک ہونے والے دھماکے میں سولہ افراد ہلاک اور پنتالیس زخمی ہوئے۔ اس سے قبل پیر کو ایک مارکیٹ میں سلسلہ وار کار بم دھماکوں میں کم از کم چھہتر افراد ہلاک اور 164 زخمی ہوئے تھے۔