Friday, 09 February, 2007, 03:17 GMT 08:17 PST
برطانیہ میں حکام نے گزشتہ ہفتے برمنگھم سے ایک مسلمان برطانوی فوجی کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنانے کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے نو میں سے پانچ افراد پر دہشتگردی کا الزام لگایا ہے۔ ان افراد کو جمعہ کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
پولیس نے تین افراد کو رہا کر دیا ہے جبکہ ایک سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
ان نو افراد کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پکڑا گیا تھا۔ برطانیہ میں سن دو ہزار میں نافذ کیے جانے والے اس قانون کے تحت اب تک دو ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے چالیس سے بھی کم کو سزا دی گئی ہے۔
پولیس نے یہ کہہ کر ان نو افراد کو حراست میں لیا تھا کہ یہ لوگ چھٹیوں واپس آنے والے ایک مسلمان برطانوی فوجی کو اغوا کرنا چاہتے تھے۔ گرفتار ہونے والوں میں مکتب نامی دکان پر کام کرنے والے ابو بکر بھی شامل تھے جنہیں جمعرات کو رہا کر دیا گیا تھا۔
ابو بکر نے رہا ہونے کے بعد کہا تھا کہ برطانیہ مسلمانوں کے لیے پولیس سٹیٹ بن چکی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اس بیان کو صریحاً غلط قرار دیا تھا۔